مسیح اور مہدیؑ

by Other Authors

Page 141 of 708

مسیح اور مہدیؑ — Page 141

مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 141 عکس حوالہ نمبر :43 سفن این ماجر ۴۵۱ عیسی اور مہدی۔ایک ہی وجود کے دو لقب كتاب الفتن بَابٌ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ قیامت کی نشانیوں کا بیان ٣٠٢٠ - حدثنا هنادين الشرق او ابو هشام ابوسر سید رضی اللہ تعالی عنہ سے تردى محمد بن يزيد ، قا لاننا الويكون روایت ہے۔کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ انْتَذَلِى والہ وسلم نے فرمایا۔میں اور أقال۔قَالَ رَسُو آنا و الساعة۔اس طرح بیجے گئے ہیں۔اور آپ نے اپنی دو انگلیوں میری حدیث نہیں ہے اور نہ میں نے اس کو بیان کیا اور یونس نے میرے اوپر جھوٹ باندھا اور سیتی نے خطا من خطا کھلے الشافعی میں کیا کہ یہ حدیث منکر ہے امام شافعی کی پھر احمد بن سنان سے نکالا انہوں نے کہا میں بینے بن معین کے پاس بیٹھا تھا اتنے میں صالح ان کے پاس آیا اور کہنے لگا مجھ کو شافعی سے پہنچا کہ یہ ایک حدیث راہی ہے اور شافعی تو ہمارے نزدیک ثقہ ہیں اور اگر یہ حدیث منکر ہو تو اس کے منکر ہونے کی وجہ یہ ہوئی کہ محمد بن خالد بندی نہ اس کو روایت وہ ایک شیخ محمول ہے اور اس کی عدالت ثابت نہیں ہوئی جس سے اس کی روایت مقبول ہو اور شافعی کے سوا کیسے بن السکن نے بھی اس حدیث کو روایت کیا جندقی سے اسی طرح تو معلوم ہوا کہ غلطی اس میں جندی کی ہے اور یہ حدیث مشہور ہے کئی طریقوں سے مگر ان میں یہ فقرہ نہیں ہے کہ لا مہدی الد ینے بن مرنم اور حافظ ابن کثیرے بدایہ والنہایہ میں کی کہ یہ حدیث مشہور ہے جندی کی روایت سے جو موذن تھا اور شیخ تھا شافعی کا اور اس سے کئی لوگوں نے روایت کی اور وہ مجھول نہیں ہے جیسے حاکم نے گمان کیا بلکہ ابن معین سے منقول ہے کہ وہ تفتی ہے لیکن بعضوں نے اس کو جندی سے اس نے ابان بن عیاش سے اس نے کون سے مرسلا نکالا اور حافظ مری نے نقل کیا کہ کسی نے شافعی کو خواب میں دیکھا انہوں نے اس حدیث کا انکار کیا اور کہاکہ یونس نے مجھ پر جھوٹ باندھا یہ میری حدیث نہیں ہے اور ابن کثیر نے کہا کہ یونس نفقات میں سے ہے اور صرف خواب کی وجہ سے اس پرطعن نہیں ہو سکتا اور یہ حد بہت بہ ظاہر مخالف ہے ان صدیوں کے جو صدی کے باب میں آئیں ہیں اور اگر غور کرد تو تطبیق ممکن ہے اس طرح سے کہ عہد کی سے مراد شہد کی کا ملی ہو وہ حضرت علینی علیہ السلام ہی ہوں گے (مصباح الزجاجہ مختصر ) مترجم کتا ہے اگر یہ حدیث بھی بھی ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ اس زمانے کا ذکر ہے جوہری کی وفات کے بعد ہو گا قیامت کے قریب اور حضرت علی علیہ السلام حضرت صمدی علیہ السلام کے بہت دنوں بعد تک زندہ رہیں گے اس وقت کوئی حمدی نہ ہوگا بجز حضرت عیسی علیہ السلام کے اب اس میں اور صدی کے اثبات کی حدیثوں میں کوئی تخالف نہ رہ اور کیو کے رکن ہے کو ایک ضعیف منکر روایت سے مہدی کی متعدد حدیثوں کو رد کریں اور مہندی کا ہماری است میں کسی نے انکار نہیں کی بجز این ملوان مورخ کے اور اس کا قول اجتماع کے خلاف اعتبار کے لائق نہیلی ہے اور ابن خلدون محدث نہیں ہے صرف مورخ ہے۔جلد سوئم