مسیح اور مہدیؑ — Page 98
مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 98 عکس حوالہ نمبر : 28 قرآن و حدیث میں رفع الی اللہ کا مطلب لار المرار H کس کس کی آغوش میں آتے رہے۔پہلے آپ پنی والدہ حضرت آمن بنت وبی با ابن عبد النات من ز ہر وہ کتاب کی گود میں پرورش پاتے رہے۔ہر حضرت ٹوبی اللہ علیہ اور ان کی بیٹی سنی جو آن حضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی رضائی نہیں تھیں اور یہی دو خاتون ہیں جوینی جوانان کے دفتر میں تشریف وائی تھیں تو آپ نے ان کے حق کا لحاظ کرتے ہوئے ان کے لئے اپنی ہی اور مبارک بچھا کر اس پر پاٹھایا تھا۔ان کے علاوہ حضرت اسم کاموں کے گود میں بھی آپ کھیلتے رہے اور یہ آئی حضرت کو والد کیوں کی طرف سے ملی تھیں۔یہ باندی تھیں۔ان کے خاوند زید بن ماریہ کیسے ہوئے اسامہ بھی بیکا نہیں کے لڑکے تھے اور یہیں وہ خاتوں ہیں کہ آپ کی وفات کے بعد جب حضرت ابو بکر و مریضی باشد جنہا ان کے پاس تشریف لائے، تو یہ رورہی تھیں انھوں نے فرمایا کر اسے ام ایمن کیوں روتی ہو؟ اللہ تعالی کے ہاں اپنے رسول کے لئے یہاں سے کہیں بہتر تو یہیں ہیں۔بر مانے گئیں میں جانتی ہوں کہ اللہ تعالی کے ہاں اپنے رسولی کے لئے یہاں کی شہریت بہت عمدہ انعامات ہیں لیکن میں تو اس وجہ سے روتی ہوں کہ آسمان سے جو یہ آیا کسائی تھی وجہ اب منقطع ہو چکی ہے۔اس پر ان دونوں حضرات کا بھی بھی میسر آیا اور ہے بھی رونے لگے۔بعثت اور ابتدائے وحی اللہ تعالی نے آپ کو چالیس برس کی عمرمیں مبعورت اولیا اور یہ کمالی حمل کا وقت ہوتا ہے۔روایت ہے کہ رانیا و حلیم اس عمرمیں مبعوث ہوا کرتے ہیں اور وہ جو مسیح علیہ امت کام کے متعلق رعایت ہے کہ جب انہیں آسمان پر اٹھایا گیا تو ان کی عمر تین برس کی تھی، تو اس کے متعلق کوی متصل سند کی حدیث نہیں بھی کر جس پر افراد کی جا سکے۔وحی کی ابتدا رویائے صادقہ سے ہوئی۔ان حضرت علی اللہ علیہ وسلم جب بھی کوئی سروری دیکھتے تو صبح صادق کی طرح سما لکھتا۔کہتے ہیں کہ یہ حالت چھ ماہ تک رہی اور نہریت کی گے