مسیح اور مہدیؑ — Page 92
مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں الثاني 92 عکس حوالہ نمبر : 25 ۳۸۵ قرآن و حدیث میں رفع الی اللہ کا مطلب اب الايمان والكفر کی اس کی آنکھوں کو ٹھنڈا کیا۔کیا میں خوش خبری سناؤں، میں نے کہا ضرور اسے بادشاہ ، اس نے کہا میرے پاس ابھی ابھی تمہاری ملک کی طرف سے میرا ایک جاسوس آیا ہے جو وہاں رہتا رہے اور یہ خبر ایا ہے کہ خدا نے اپنے نبی محمد کی مدد کی، ان کے دشمنوں کو ہلاک کیا اور ملال مناوں نامور قریش قید کر لئے گئے۔یہ مقابلہ مقام بدر میں ہوا تھا جہاں پیلو کے درخت بکثرت ہیں گویا میں اپنے کو وہاں دیکھ رہا ہوں جبکہ میں اپنے آقا کے جو بنی ضمرہ سے تھا اونٹ چراتا تھا۔یہ اشارہ ہے اس واقعہ کی طرف کہ نجاشی کا یا پ بادشاہ تھا اور نجاشی کے چھا کے بارہ لڑکے تھے ان سب نے اس کو مار ڈالا اور نجاشی کو غلام بنا کہ بنی ضمرہ کے تاجر کے ہاتھ فروخت کر ڈالا جمعہ اسے جہاز لے آیا اور اونٹ چرانے کی خدمت اس کے سپرد کی، چونکہ نجاشی کے چازاد بھائیوں میں سلطنت کرنے کی اہلیت نہ تھی لہذا لوگ چچازے آئے اور پنجاشی کو لے جا کہ بادشاہ بنا دیا۔جناب جعفر نے کہا اے بادشاہ یہ تو فرمائیے کہ آپ خاک پر کیوں بیٹھے ہیں اور یہ پرانے کپڑے کیوں پہنے ہوئے ہیں اس نے کہا ہم نے جناب عیسیٰ پر نازل ہوئی کتاب میں پڑھتا ہے کہ بندوں پر اللہ کا حق یہ ہے کہ جب کسی نعمت کے وقت بندوں سے بات کریں تو تواضع سے کریں جب خدا نے مجھے محمد جیسے نبی کی نعمت دی تو میں تواضع و انکساری سے بات کیوں نہ کروں یہ تواضع خوشنودی خدا کے لئے ہے جب حضرت رسول خدا کو یہ خبر ملی تو اپنے اصحاب سے یہ فرمایا۔صدقہ دینے سے نعمت زیادہ ہوتی ہے تم صدقہ دو اللہ تم پر رحم کرے گا تواضع متواضع کی رفعت کو زیادہ کرتی ہے لہذا تواضع اختیار کرد خدا تمہار امرتیہ بلند کرے گا اور عفو کر نا عزت کو بڑھاتا ہے پس تم عضو کرو اللہ تمہیں عورت دے گا۔- عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ أَبِي عُمَيْرٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ عَمَّارٍ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : سَمِعْتُهُ يَقولُ : إِنَّ في السَّمَاءِ مَلَكَيْنِ مُوَكلَيْنِ بِالْعِبَادِ ، فَمَنْ تَوَاضَعَ اللَّهِ رَفَعَاهُ وَمَن تكبر وضعاه " فرمایا حضرت ابو عبد اللہ علیہ السلام نے آسمان میں دو فرشتے بندوں پر موکل ہیں جو کوئی قریبہ ان اللہ تواضع کرتا ہے اس کا رتبہ بلند کرتے ہیں اور جو تکبر کرتا ہے اسے گرا دیتے ہیں۔- ابْنُ أَبِي عُمَيْرٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَجاج ، عَنْ أَبِي عَبَدَ اللَّهِ ع قَالَ : أَفْطَرَ رَسُولُ اللَّهِ عبية خميس في مسجد قبا ، فَقَالَ : هَلْ مِن شَرَابٍ ؟ فَأَتَاهُ أَوَّسُ بْنُ خَوَلِي الْأَنصَارِي بعسل فَلَمَّا وَضَعَهُ عَلَى فِيهِ تَحاهُ ثُمَّ قَالَ : شَرَابَانِ يُكتفَى بِأَحَدِهِمَا مِنْ صَاحِبِهِ لا أشربة : به ولا أحر مُهُ وَلكِن أتواضع الله ، فإ أَتَوَاضَ اللَّهِ، فَإِنَّ مَنْ تَوَاضَعَ لِلَّهِ رَفَعَهُ اللَّهُ، وَمَنْ تَكَبَّرَ خَفَضُ اللَّهُ، وَمَن اقتصد في مَعيشَنِهِ رِزْقَهُ الله وَمَنْ بَدْ رَحمه الله، ومن أكثر ذكر المَوْتِ أَحَبُّه الله۔