مشاغل تجارت اور حضرت خدیجہ ؓ سے شادی

by Other Authors

Page 28 of 31

مشاغل تجارت اور حضرت خدیجہ ؓ سے شادی — Page 28

٢٨ کہ اُس میں انگلیاں ڈبو ڈبو کر لڑ لڑ کر جان دینے کی قسمیں کھائیں۔عربوں میں تو بات بات پر جنگیں شروع ہو جاتی تھیں۔بات بڑھتے دیکھ کہ ایک عمر رسیدہ نیک دل شخص ابو امیہ بن مغیرہ نے معاملے کو سلجھانے کے لئے ایک رائے دی جس پر سب متفق ہو گئے۔رائے یہ تھی کہ آپس میں جھگڑا نہ کرو سب بیٹھ کر انتظار کرو جو شخص سب سے پہلے داخل ہو اسے منصف بنا لو اور جو وہ فیصلہ کہ سے اُس پر عمل کر و۔یہ رائے ایسی تھی جس میں اتفاق کا پہلو نمایاں تھا جیسے پر قرعہ اندازی میں کسی کا بھی قرعہ نکلے تو فریقین مان جاتے ہیں۔سب حرم کے دروازے کی طرف نظریں لگائے بیٹھ گئے۔کیا دیکھتے ہیں کہ پہلا شخص جو داخل ہوا وہ الہی نور سے منور محمد صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔اپنی اخلاقی پاکیزگی اور شان محبوبی کے ساتھ حرم میں داخل ہوئے اس شخص کو دیکھتے ہی سب بیک زبان پکارے امین امین ہم اس کے فیصلے پر راضی ہیں۔اُس وقت آپ کی عمر مبارک پینتی (۳۵) سال تھی۔قریش کے سارے تجربہ کار عمر رسیدہ لوگ وہاں جمع تھے۔اللہ تعالیٰ تھے ان کی زبان سے اقرار کرایا کہ یہ وہ ہستی ہے جو تم سب میں ہر لحاظ سے بہتر ہے۔کسی نے بھی آپ کی ثالثی ماننے سے انکار نہ کیا۔آپ معاملہ کی اہمیت کو سمجھ گئے جسن تدبیر سے کام لیتے ہوئے اپنی چادر بچھائی اُس پر حجر اسود رکھا اور فرمایا کہ سب قبائل کے نمائندے کناروں سے پکڑ کہ اس چادر کو اٹھائیں۔سب نے ایسا ہی کیا جب حجر اسود مناسب عیدی پر آ گیا تو آپ نے اپنے دست مبارکہ سے حجر اسود اُٹھا کہ اس کی جگہ پر رکھ دیا۔نہ کوئی جھگڑا ہوا نہ اختلاف رائے بلکہ سب نے آپ کی معاملہ فہمی کی