مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 813
813 ہے اخلاص کی ضرورت ہے تقوی کی۔ایسا اخلاص اور ایسا تقوی جس کے بعد تمہاری ہر حرکت و سکون خدا کے لئے ہو جائے۔اگر تم ایسا اخلاص اور ایسا تقوی پیدا کر لو گے تو تمہاری زبان تمہاری زبان نہیں بلکہ خدا کی زبان بن جائے گی۔تمہارے ہاتھ تمہارے نہیں بلکہ خدا کے ہاتھ ہو جائیں گے۔اگر تم پر کوئی حملہ کرے گا تو تمہاری بجائے خدا اس حملہ کا جواب دے گا اور جس کی طرف تم آنکھ اٹھاؤ گے خدا تم سے بھی پہلے اپنی آنکھ ادھر اٹھائے گا۔پس اصل ضرورت یہ ہے کہ تم اپنے اندر اتنی تبدیلی پیدا کرو کہ تمہارا ہر قدم خدا تعالی کی منشاء کے ماتحت اور اس کی متابعت میں اٹھے تب تمہارا ہر فعل خدا کا فعل بن جائے گا اور تم یہ محسوس کرو گے کہ اب تم خدا کی گود میں ہو اور وہی ہر وقت تمہاری حفاظت کر رہا ہے۔حضور نے فرمایا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دعا فرمائی ہے کہ پھیر دے میری طرف اے ساریاں جگ کی مہار جماعت کو بھی چاہئے کہ وہ یہ دعا کرتی رہے اور ساتھ ہی اس کے لئے کوشش اور جد وجہد کو بھی نسلا بعد نسل تجاری رکھے۔دراصل قلوب میں تبدیلی پیدا کرنا اللہ تعالیٰ ہی کے ہاتھ میں ہے۔اس لئے ہمیں اس سے یہ دعا کرتے رہنا چاہئے کہ الہی ! دنیا کے دل اسلام اور احمدیت کی طرف پھیر دے۔جس طرح مسیح محمدی اپنی تمام شان میں مسیح ناصری سے بڑھ کر تھے اسی طرح مسیح محمدی کی جماعت بھی ہر لحاظ سے مسیح ناصری کی جماعت سے بہت زیادہ ترقی کرے۔حضور نے فرمایا :۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا الہام ہے کہ :۔”بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔" تعبیر کی رو سے کپڑوں سے مراد جماعت بھی ہوتی ہے۔اس لئے الہام کا یہ بھی مطلب ہے کہ ایک وقت آنے والا ہے جب کہ دنیا کے بادشاہ اور حکمران مسیح موعود کی جماعت سے بھی برکت حاصل کرنا اپنے آپ کے لئے فخر کا موجب سمجھیں گے۔بے شک آج تمہاری کوئی اہمیت اور قدر نہیں لیکن اگر تم اپنے اخلاص کے مقام کو قائم رکھو گے تو یہ الہام تمہارے ذریعہ سے ضرور پورا ہو تا رہے گا۔(انشاء اللہ ) اگر محمود غزنوی کو جو محض ایک دنیوی بادشاہ تھا اللہ تعالیٰ کامیابی اور برکت دے سکتا ہے تو یقیناً محمود قادیانی جو تمہیں روحانی بادشاہت کی طرف بلا تا ہے ، اس سے بہت زیادہ برکت والا ہے۔اس کے ذریعہ خدا تمہیں بھی بہت برکت دے گا اور پھر تمہارے ذریعہ دوسروں کو بھی برکت دے گا اور تمہارے ذریعہ اللہ تعالی اسلام کا جھنڈا دنیا میں بلند رکھے گا۔دراصل ساری برکت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہی ہے۔اس سے مسیح موعود نے برکت لی اور پھر مسیح موعود کے ریعہ ان کے متبعین نے بھی برکت پائی۔حضور نے فرمایا:۔