مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 789
789 مل کر دعا کریں کہ ہم میں جو کمزور ہیں اللہ تعالیٰ ان کو اپنی اصلاح کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ جو کمزور اس دعا میں ان کے ساتھ شامل ہو جائے گا وہ اپنی اصلاح کرنے کی کوشش کرے گا۔پس ہمیشہ کمزوروں کے گھروں پر جاؤ اور ان کو کہو کہ آؤ ہمارے ساتھ مل کر اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کرو۔اس طرح آہستہ آہستہ خود ان کو اپنا نفس نصیحت کرنا شروع کر دے گا۔پھر جب آپ لوگ انہی کمزور خدام سے کہیں گے کہ آؤ اب ہمارے ساتھ مل کر دوسرے خدام کے گھروں پر چلو تاکہ ہم ان کے لئے بھی دعا کریں تو سب سے پہلے ان کو بھی اپنی اصلاح کی طرف توجہ پیدا ہو گی اور اس طرح کام پہلے سے بہتر ہو جائے گا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جماعت احمدیہ کراچی کے پانچ سواسی میں سے صرف چھیالیس خدام ایسے ہیں جنہوں نے تحریک جدید میں حصہ نہیں لیا ، باقی سب اس میں حصہ لے رہے ہیں۔یہ بے شک ایک خوشی کی بات ہے لیکن خدمت سلسلہ کا کام ایسا ہے کہ چھیالیس کی نفی بھی بہت بڑی لگتی ہے۔انہیں چاہئے تھا کہ ان کے اندر خدمت دین کا ایسا احساس ہو تاکہ ایک بھی نفی نہ ہوتی۔چھیالیس کی نفی بتاتی ہے کہ ابھی ہم نے جماعت کے بہت سے افراد کو ان کے فرائض کی طرف توجہ دلانی ہے۔اس وقت ہماری جماعت دس لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔پانچ سو اسی خدام میں سے چھیالیس کا کمزور ہو نا بتاتا ہے کہ قریباً دو سو میں سے ایک فرد ایسا ہے جو تحریک جدید میں حصہ نہیں لے رہا۔اب اگر دو سو چھیالیس سے ضرب دی جائے تو بانوے سو بنتا ہے۔اس کے معنی یہ ہیں کہ ہماری جماعت میں نو ہزار دو سو آدمی ایسا ہے جو چندہ نہیں دے رہا اور اگر وہ واقعہ میں اس طرف توجہ نہیں کر رہا تو یہ کتنی خطرناک بات ہے۔اگر یہ نو ہزار دو سو آدمی بھی حصہ لینے لگے تو یورپ میں کئی بیوت تعمیر ہو جائیں اور کئی نئے مشن کھل جائیں مگر اس کا علاج بھی دعا ہی ہے۔یہ میں مان نہیں سکتا کہ جماعت میں کوئی ایسا شخص بھی ہے جو تبلیغ کی ضرورت نہیں سمجھتا اور اگر وہ ضرورت کو سمجھتے ہوئے بھی چندہ میں حصہ نہیں لیتا تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اس کے دل پر زنگ لگ گیا ہے اور دل کا زنگ دور کرنے کے لئے بھی دعا کی ہی ضرورت ہے۔پس دعاؤں میں شامل کر کے کمزور خدام کی غیرت کو بھڑ کا یا جائے۔ہم نے دیکھا ہے“ بعض ایسے آدمی جو چندے دینے میں بڑے ست تھے ، جب انہیں سمجھایا گیا تو وہ بڑی بڑی قربانی کرنے والے بن گئے۔ایک دوست جو اب بہت مخلص ہیں اور جنہیں اپنی پرانی بات کا ذکر بہت برا لگتا ہے اور کہتے ہیں کہ کس نے آپ کے پاس غلط رپورٹ کر دی تھی۔ان کے متعلق شروع میں مجھے پتہ لگا کہ وہ سلسلہ کی طرف توجہ رکھتے ہیں۔اس پر میں نے مولوی شیر علی صاحب اور حافظ روشن علی صاحب کو ان کے پاس بھیجا۔انہوں نے سنایا کہ ہم نے ان کو کہا کہ بیعت کر لیجئے۔وہ کہنے لگے بیعت تو میں کرلوں گا مگر با قاعدہ چندہ نہیں دوں گا۔میں نے کہا تھوڑا تھوڑا چندہ ہی دینا شروع کر دیں۔پھر اللہ تعالیٰ چاہے گا تو آپ خود ہی بڑھا دیں گے چنانچہ انہوں نے تھوڑا تھوڑا چندہ دینا شروع کر دیا مگر پھر اخلاص میں اتنے بڑھ گئے کہ انہوں نے بہت زیادہ قربانی شروع کر دی۔اب تو وہ پشنر ہیں اور ان کا چندہ تھوڑا ہو گیا ہو گا مگر جب وہ ملازم تھے تو دو ہزار روپیہ با قاعدہ تحریک بدید کا چندہ دیتے تھے۔میں نے ایک دفعہ حساب لگایا تو مجھے معلوم ہوا کہ چندہ دینے میں وہ میرے بعد دوسرے نمبر پر تھے حالانکہ چوہدری ظفر اللہ خان