مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 631
631 حضور نے ایک انگریز نو مسلم کو ملاقات کے وقت نصائح کرتے ہوئے فرمایا :۔اس میں شک نہیں کہ بہت سے احمدی نوجوان اپنی زندگیاں خدمت دین کے لئے وقف کر رہے ہیں۔ان میں سے بعض کو یہیں کام پر لگا دیا جاتا ہے اور بعض کو تبلیغ کی غرض سے بیرونی ممالک میں بھیج دیا جاتا ہے لیکن احمدیت سے قبل زندگی وقف کرنے کا کوئی معین نظام موجود نہیں تھا۔حضرت معین الدین چشتی کو ہی دیکھ لو۔وہ اس حال میں ہندوستان آئے کہ ابھی کوئی اور مسلمان یہاں نہیں آیا تھا۔انہوں نے ہندوستان کو اسلام کا پیغام پہنچانا شروع کیا اور بالاخر ایک مسلم جماعت قائم کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ظاہر ہے کہ یہ ان کا ذاتی فعل تھا جو انہوں نے باطنی عزم اور جرات کی بدولت خود ہی انجام دیا۔اس سے ظاہر ہے کہ وقف محض کسی جماعت کے لئے نہیں ہو تا بلکہ اس کام کے لئے ہوتا ہے جسے خدا تعالیٰ اس زمانہ میں اپنے بندوں کے ذریعہ سرانجام دینا چاہتا ہے۔پس ضروری نہیں کہ کوئی شخص جماعت کے لئے ہی اپنے آپ کو وقف کرے بلکہ وہ اس کام کی انجام دہی کے لئے بھی اپنے آپ کو وقف کر سکتا ہے۔" (فرموده ۱۴ جنوری ۱۹۵۲ء مطبوعه المصلح ۳ اپریل ۱۹۵۳ء)