مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 552
552 نوجوانوں کو یہ سمجھ لینا چاہئے کہ خدا تعالیٰ نے انہیں زریں موقعہ عطا فرمایا ہے جو صدیوں بلکہ میں کہتا ہوں کہ ہزاروں سال میں بھی میسر نہیں آتا۔دنیا نے چھ ہزار سال تک انتظار کیا پھر محمد رسول اللہ مال لال پیدا ہوئے۔پھر تیرہ صدیاں مسلمانوں نے بھی انتظار میں گزاریں۔پھر محمد رسول اللہ صلی اللہ کے نائب ، بروز اور خلیفہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پیدا ہوئے۔اس زمانہ کو شیطان کی آخری جنگ کہا گیا ہے۔گویا اس سے زیادہ نازک وقت دنیا پر کبھی نہیں آیا اور آئندہ بھی کبھی نہیں آئے گا۔سو اس موقعہ پر بھی جس کو کام کرنے کی توفیق ملے وہ نہایت ہی بابرکت انسان ہے۔پس اپنی اہمیت کو سمجھو وقت کی نزاکت کو محسوس کرو اور خدا تعالیٰ کی اس نعمت کی قدر کرو جو اس نے تمہارے ہاتھوں کی پہنچ میں رکھی ہے۔صرف تمہیں اپنا ہاتھ لمبا کرنے کی ضرورت ہے۔جس کے لئے وہ صلحاء اور بزرگ بھی ترستے رہے جن کو یاد کر کے تمہاری آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں اور تم ان پر رشک کرتے ہو۔جس طرح ان کا تقویٰ اور ان کا زہد تمہارے لئے قابل رشک بزرگان امت کے کارناموں پر رشک ہے اسی طرح تمہار ا اس زمانہ میں کام کرنا بھی ان کے لئے قابل ہے رشک ہے۔حضرت شبلی ، حضرت جنید بغدادی حضرت شہاب الدین سهروردی ، خواجہ معین الدین چشتی حضرت محی الدین ابن عربی کے نام جب تم پڑھتے ہو تو تمہیں اس بات پر رشک آتا ہے کہ انہوں نے کس کس رنگ میں خدا تعالیٰ کو پانے کی کوشش کی کیا کیا رستے برکتوں کے ان کے لئے کھولے اور تم رشک کرنے میں حق بجانب ہو کیونکہ وہ اپنے زمانے میں دین کے ستون تھے۔وہ اپنے زمانہ میں خدا تعالیٰ کی امت کے نشان تھے اور خدا تعالیٰ کا چہرہ دکھانے والے تھے۔میں سچ کہتا ہوں وہ بھی تم پر رشک کرتے ہیں کیونکہ تمہیں خدا تعالیٰ نے اس زمانہ میں پیدا کیا ہے جس کے لئے ان کو بھی تڑپ تھی۔پس اپنی حیثیت کو سمجھتے ہوئے اور اپنے عالی مقام کو دیکھتے ہوئے تم وہ طریق کار تلاش کرو جو بڑے درجہ کے لوگوں کو اختیار کرنا چاہئے۔" خطبه جمعه فرموده ۱۳ جنوری ۱۹۵۰ء مطبوعه الفضل ۲۲ جنوری ۱۹۵۰ء)