مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 512 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 512

512 حضرت مصلح موعود کا دردانگیز پیغام پاکستانی احمدیوں کے نام ۲۲ اگست ۱۹۴۷ء کو جبکہ ہندو پاکستان میں فتنہ و فساد کے شعلے بلند ہو رہے تھے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے احمدیت کے بنیادی مرکز قادیان سے پاکستانی احمدیوں کے نام ایک درد انگیز پیغام تحریر فرمایا تھا جس کا آخری حصہ درج ذیل کیا جاتا ہے۔(مرتب) میں جماعت کو محبت بھر اپیغام بھجواتا ہوں۔اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کے ساتھ ہو۔اگر ابھی میرے ساتھ مل کر کام کرنے کا وقت ہو تو آپ کو وفاداری اور دیانتداری سے کام کرنے کی توفیق ملے اور اگر ہمارے تعاون کا وقت ختم ہو چکا ہے تو اللہ تعالیٰ آپ کا حافظ و ناصر ہو اور آپ کے قدموں کو ڈگمگانے سے محفوظ رکھے۔سلسلہ کا جھنڈ انچانہ ہو۔اسلام کی آواز پست نہ ہو۔خدا تعالیٰ کا نام ماند نہ پڑے۔قرآن سیکھو اور حدیث سیکھو اور دوسروں کو سکھاؤ اور خود عمل کرو اور دوسروں سے عمل کراؤ۔زندگیاں وقف کرنے والے ہمیشہ تم میں سے ہوتے رہیں اور ہر ایک اپنی جائیداد کے وقف کا عہد کرنے والا ہو۔خلافت زندہ رہے اور اس کے گرد جان دینے کے لئے مومن آمادہ کھڑا ہو۔صداقت تمہار از یور امانت تمہارا احسن تقویٰ تمہار الباس ہو۔خدا تعالیٰ تمہارا ہو اور تم اس کے ہو۔آمین! میرا یہ پیغام باہر کی جماعتوں کو بھی پہنچا دو اور انہیں اطلاع دو کہ تمہاری محبت میرے دل میں ہندوستان کے احمدیوں سے کم نہیں۔تم میری آنکھ کا تارا ہو۔میں یقین رکھتا ہوں کہ جلد سے جلد اپنے ملکوں میں احمدیت کا جھنڈا گاڑ کر آپ لوگ دوسرے ملکوں کی طرف توجہ دیں گے اور ہمیشہ خلیفہ وقت کے جو ایک وقت میں ایک ہی ہو سکتا ہے ، فرمانبردار ر ہیں گے اور اس کے حکموں کے مطابق اسلام کی خدمت کریں گے۔“ والسلام - خاکسار مرزا محموداحمد (خلیفة المسیح) فرموده ۱۲۲ اگست ۱۹۴۷ء مطبوعہ خالد ستمبر ۱۹۵۷ء)