مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 494 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 494

494 " قریباً ڈیڑھ مہینہ ہوا میں نے کہا تھا کہ خدام الاحمدیہ کو چاہئے کہ جتنی جگہ قادیان میں خالی پڑی ہے ان ساری زمینوں میں گندم بوئین مگر میں سمجھتا ہوں انہوں نے میری یہ بات اس کان سے سنی اور اس کان سے نکال دی۔اگر خدام الاحمدیہ کے کوئی عہدیدار یہاں موجود ہوں تو بتائیں کہ کیا انہوں نے فصل ہوئی ہے۔اس پر مہتمم صاحب عمومی خدام الاحمدیہ مرکزیہ نے عرض کیا کہ ہم نے بعض زمینوں کی پیمائش کی تھی مگر وہاں پانی نہیں چڑھتا۔حضور نے فرمایا :۔کیا اس کے متعلق آپ لوگوں نے مجھے اطلاع دی تھی"۔اس پر وہ خاموش ہو گئے۔حضور نے فرمایا :۔۔" تم لوگ میرے پاس رپورٹ بھیجے کہ ان زمینوں میں پانی نہیں چڑھتا تو میں اس کے متعلق انتظام کرتا۔مگر اس کے متعلق تو مجھے کوئی اطلاع نہیں دی گئی اور اب جب کہ گندم بونے کا وقت گزر چکا ہے کہہ دیا گیا ہے کہ پانی نہیں چڑھ سکتا حالا نکہ پانی سب جگہ چڑھایا جا سکتا ہے بلکہ اونچے ٹیلوں پر بھی چڑھایا جا سکتا ہے۔یوپی میں جا کر دیکھو سب لوگ چھٹا دیتے ہیں یعنی ٹین میں پانی بھر کر چھٹا دیتے چلے جاتے ہیں۔اسی طرح پنجاب کے کئی علاقوں میں ہوتا ہے بلکہ یہاں قادیان میں بھی پہلے اسی طرح پانی دیتے تھے۔ان علاقوں میں پیلے یا ٹین میں پانی بھر کر چھٹا دیتے ہیں۔یہ کام تو عورتیں بھی کر سکتی ہیں۔سارا یو پی چھٹے سے پانی دیتا ہے۔کیا ہم ان لوگوں سے کمزور ہیں ؟ تم جتنا پانی کہتے ہم اس سے لگنا پانی چڑھا کر دکھا دیں گے۔جب ساری دنیا ایسا کرتی ہے تو یہاں کیوں نہیں ہو سکتا؟ یہ تو صرف ایک بہانہ ہے کہ پانی نہیں چڑھ سکتا۔تم جو سب سے اونچی زمین ہے وہ مجھے دکھاؤ۔میں ہفتہ کے دن خود تم کو پانی چڑھا کر دکھا دوں گا۔جو کام میں بتا تا ہوں وہ کرتے نہیں۔پھر جب غلے کی کمی ہوگی تو رقعے آنے شروع ہو جائیں گے کہ کوئی انتظام فرما ئیں۔ہم اس وقت کہاں سے انتظام کریں گے۔کیا ہم فرشتوں سے کہیں گے کہ ہمیں غلہ لا کر دو۔ابھی تو اتنی تنگی کے دن بھی نہیں آئے مگر ابھی سے لوگوں نے لکھنا شروع کر دیا ہے کہ ہمیں غریبوں کے غلہ سے ہی کچھ دے دیں کیونکہ ہم اس وقت لے نہیں سکے تھے حالانکہ اس وقت بھی میں نے جماعت کو توجہ دلائی تھی کہ سال بھر کے لئے غلہ اپنے گھروں میں ڈال لیا جائے۔ادھر یہ حالت ہے کہ باوجو د توجہ دلانے کے خدام الاحمدیہ نے اس پر ذرا بھی عمل نہیں کیا حالانکہ یہاں کی جتنی خالی زمینیں ہیں بوئی جاسکتی تھیں۔قادیان میں پندرہ سو ایکڑ کے قریب زمین ہے۔فرض کرو اس میں سے ۳۰۰ ایکڑ کے قریب نکل چکی ہو تو ہزار بارہ سو ایکڑ بچتی ہے۔اگر اس ساری زمین میں کاشت کرلی جائے تو کیا حرج ہے اور اگر زیادہ محنت کی جائے اور کھاد زیادہ مقدار میں ڈال دی جائے تو یہی زمین دو فصلی ہو سکتی ہے۔اگر خدام الاحمدیہ یہ کام کر لیتے تو غرباء کے لئے کافی غلہ مل جاتا۔) فرموده ۱۹ نومبر ۱۹۴۶ء۔مطبوعہ الفضل ، مئی ۱۹۶۱ء )