مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ چہارم) — Page 65
مشعل راہ جلد پنجم حصہ چہارم 65 ارشادات حضرت خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ عالی جو random سوال لوگوں سے کرتا ہوں، اُن میں سے %50 ایسے ہیں جو پانچ نمازیں نہیں پڑھتے۔تو کیوں نہیں پڑھتے ؟ اس کے لئے کیا کوشش کی جارہی ہے؟ اور جو کوشش کی جارہی ہے اس کا نتیجہ کیا بر آمد ہورہا ہے۔نتیجہ بھی نکل کے آنا چاہیے آپ کے پاس۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب جو اردو پڑھ سکتے ہیں اُن کو کوئی مہیا کریں۔جو ایک طرف تعلیم کے مہتم کرتے ہیں نا اپنے امتحان لینے کے لئے ، اس کے علاوہ جو ہیں مطالعہ کے لئے رکھا کریں کوئی۔یہ بھی تربیت کا ایک حصہ ہے۔تعلیم میں مدد ہو جائے گی اُس کی کوئی حرج نہیں۔توجہ دلائیں۔پھر یہ ہے کہ ان کے جھگڑوں وغیرہ کی طرف توجہ دلائیں۔بعض لوگ باہر بہت اچھے ہوتے ہیں اور بڑی خدمت کر رہے ہوں گے اور وقار عمل کے لئے بلائیں گے تو اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے کام کریں گے۔گھر جائیں گے تو بیوی بچوں پر ہاتھ جھاڑنے لگ جاتے ہیں۔ایسے لوگوں پر بھی نظر رکھنی چاہیئے۔پتا تو ساروں کو پہلے ہی ہے کہ کیا حکم ہے۔اس کا فائدہ تب ہو گا جب ایسے لوگوں کو اصلاح کرنے کے لئے یہ دیکھیں کہ کون لوگ ہیں جو اُن کی اصلاح کر سکتے ہیں؟ اور اس کا طریقہ کیا ہے؟ ایک شخص کسی عہدیدار کی بات نہیں مانتا تو ضروری نہیں کہ اس کو annoy کرنے کے لئے ، اس کو چڑانے کے لئے ، اُس کو تنگ کرنے کے لئے عہد یدار کو ہی بار بار اس کے پاس بھیجا جائے۔منتظم تربیت ہی وہاں جائے یا ناظم تربیت ہی اس کے پاس جائے یا مہتم تربیت اس کے پاس جائے یا جماعت کا سیکرٹری تربیت جائے۔بلکہ اس کے بجائے یہ دیکھیں کہ کس سے اچھے تعلقات ہیں دوستوں میں سے، اور ان دوستوں میں سے بہتر کون ہے اپنی تربیت کے لحاظ سے۔اُس کے سپرد کریں اُس کی تربیت کرنا۔اُس کو نمازوں کی طرف لانا، اُس کو قرآن کریم پڑھانے کی طرف توجہ دلانا ، اُس کو اپنے گھریلو مسائل کو ٹھیک رکھنے کی طرف توجہ دلانا۔یہ تمہاری ذمہ داری ہے تم کرو۔اس طرح کی بھی ایک ٹیم تیار ہونی چاہیے جو بیک گراؤنڈ میں رہنے والے، خدمت کرنے والے ہوں اور ان کو پتا ہو ( یعنی ) صدر صاحب کو اور مرکزی عاملہ کو appriciate کیا جائے ان کی کوشش کو اگر کامیاب ہوتی ہے تو۔بعض لوگوں کا مزاج ہوتا ہے کہ وہ عہدیداروں کی بات سن کے اور زیادہ چڑتے ہیں اور عہد یداروں کا بھی مزاج بن گیا ہوا ہے کہ ہم نے بات کرنی ہے اُن سے ذرا رعب ڈال کے۔خدام الاحمدیہ میں نہیں اتنا ہوتا لیکن بعض دفعہ ماحول کا اثر ہو بھی جاتا ہے۔تو اس لحاظ سے اکثر کوشش یہ ہے کہ ہمارے لوگوں