مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ چہارم) — Page 132
مشعل راہ جلد پنجم حصہ چہارم 132 ارشادات حضرت خلیفہ مسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی خطبہ جمعہ فرمودہ 22 دسمبر 2006ء سے اقتباس داعیان الی اللہ کی خصوصیات۔۔۔( دعوت الی اللہ ) کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے کے لئے ، اللہ تعالیٰ نے یہ اصول بیان فرما دیا کہ صالح اعمال بجالانے والے ہو اور مکمل طور پر فرمانبردار ہو۔نظام جماعت کا احترام ہو اور اطاعت کا مادہ ہو تبھی دعوت الی اللہ بھی کر سکتے ہو اور تم اس کا پیغام جو پہنچاؤ گے وہ اثر رکھنے والا بھی ہوگا۔کیونکہ پھر اللہ تعالیٰ کی مدد بھی حاصل ہوگی۔اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کی باتوں کو پسند کرتا ہے جو ان خوبیوں کے مالک ہوتے ہیں۔فرماتا ہے کہ وَمَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَا إِلَى اللَّهِ وَعَمِلَ صَالِحاً وَقَالَ إِنَّنِي مِنَ المُسلمين ( حم سجده : 34) یعنی اس سے زیادہ اچھی بات کس کی ہوگی جو کہ اللہ تعالیٰ کی طرف لوگوں کو بلاتا اور نیک اعمال بجالاتا ہے اور کہتا ہے کہ میں فرمانبرداروں میں سے ہوں۔پس اپنی حالتوں کو سب سے پہلے اس تعلیم کے مطابق ڈھالنا ہوگا جس کی آپ (دعوت الی اللہ ) کر رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف توجہ ہوگی تو پھر نتائج بھی نکلیں گے کیونکہ کوئی دعوت الی اللہ ، کوئی ( دعوت الی اللہ ، کوئی کوشش اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتی، اس وقت تک ثمر آور نہیں ہوسکتی جب تک اللہ تعالیٰ کا فضل نہ ہو اور اللہ تعالیٰ کا فضل حاصل کرنے کے لئے اس کے حضور خالص ہو کر جھکنا اور تمام وہ حقوق جو اللہ تعالیٰ کی ذات سے متعلق ہیں ادا کرنا ضروری ہے۔تمام ان باتوں پر ، ان حکموں پر عمل کرنا ضروری ہے جن کی اللہ تعالیٰ نے تلقین فرمائی ہے۔خدا تعالیٰ سے ہر قسم کا معاملہ صاف رکھنا ضروری ہے۔بندوں کے حقوق ادا کرنے ضروری ہیں۔رحمی رشتوں کی ادائیگی بھی ضروری ہے اور ہمسایوں کے حقوق کی ادائیگی بھی ضروری ہے اور اپنے ماحول کے حقوق کی ادائیگی بھی ضروری ہے۔جہاں جہاں ، جس وقت، کوئی احمدی جہاں کھڑا ہے اس کے اردگرد جو بھی اس سے مدد کا طالب ہے اس کی مدد کرنا ضروری ہے۔