مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ سوم) — Page 70
مشعل راه جلد پنجم حصہ سوم 70 ارشادات حضرت خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کے گھر پہنچ جاتے ہیں۔پاکستان میں اکثر ایسا ہوتا ہے۔اور یہ عادت چونکہ اب مہمانوں اور میز بانوں دونوں کا مزاج بن چکا ہے اس لئے عموماً دونوں فریق زیادہ محسوس نہیں کرتے۔اس صورت میں اگر کھانے وغیرہ میں دیر ہو جائے تو بعض اوقات بعض مہمان شکوہ کرتے ہیں کہ دیکھو دو پہر کا کھانا ہمیں شام کو جا کر دیا۔گو کہ پاکستان میں ہمارے دیہاتوں میں یہ عادت بھی ہے کہ وہ اطلاع دے کر بھی جائیں تب بھی پہنچنے کے بعد ہی کھانا پکانا شروع کرتے ہیں۔تو بہر حال یہ چھوٹے چھوٹے شکوے پھر بڑے شکوے بننے شروع ہو جاتے ہیں۔اور خاص طور پر ان رشتوں میں جو بڑے نازک رشتے ہوتے ہیں۔بچوں کے سسرال والوں کا معاملہ آ جاتا ہے تو اس طرح پھر دلوں میں دوریاں پیدا ہونی شروع ہو جاتی ہیں۔یہ پاکستان کی جومیں مثال دے رہا ہوں یہ پاکستان کی یا کسی خاص طبقے کی مثال نہیں ہے۔ان مغربی ممالک میں بھی میرے سامنے ایسی مثالیں ہیں کہ بغیر اطلاع کے بے وقت کسی کے گھر پہنچ گئے خواہ اپنے کسی عزیز کسی رشتے دار کے گھر ہی پہنچے اور گھر والے نے سمجھا کہ اس وقت آئیں ہیں تو کھانا کھا کے ہی آئے ہوں گے اور جب گھر والے نے کچھ دیر کے بعد چائے پانی وغیرہ کے متعلق پوچھا تو یہ شکوے پیدا ہوئے کہ مجھے کھانے کے بارہ میں کیوں نہیں پوچھا، بڑا بداخلاق ہے، یہ ہے ، وہ ہے۔تو یوں رشتوں میں پھر دراڑیں پڑنی شروع ہو جاتی ہیں اور دوریاں پیدا ہونی شروع ہو جاتی ہیں۔آجکل کے زمانے میں جس طرح میں نے کہا، رابطے کا نظام بہت تیز ہے، اطلاع کرنے کا نظام بڑا تیز ہے۔فون کر کے اطلاع کرنی چاہئے ، پوچھنا چاہئے کہ فلاں وقت میں آ رہا ہوں یا میں آنا چاہتا ہوں اگر مصروفیت نہ ہو اور وقت دے سکو تو میں آجاؤں۔تو اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ آداب اس وقت سکھا دیے جب کسی کو ان آداب کا پتہ ہی نہیں تھا۔دعوتوں پر بر وقت جائیں پھر ایک جگہ حکم ہے کہ دعوت پر اگر بلایا جائے تو پھر جاؤ اور وقت پر جاؤ۔اور پھر جب دعوت سے فارغ ہو جاؤ تو واپس آ جاؤ۔بعض تو بڑی کھلی دعوتیں ہوتی ہیں شادی بیاہ وغیرہ کی۔ساری ساری رات ہو ہا ہوتی رہتی ہے ،شور شرابے ہوتے رہتے ہیں۔ہماری جماعت میں تو کم ہے مگر غیروں میں بہت زیادہ ہوتے ہیں۔وہاں تو وقت کی پابندی نہیں ہوتی لیکن بعض سنجیدہ مجلسیں بھی ہوتی ہیں، جماعتی دعوتیں بھی ہوتی ہیں۔یا ایسی دعوتیں ہوتی ہیں جو جماعتی جگہوں پر کی جارہی ہوتی ہیں۔تو ان میں ان سب آداب کا خیال رکھنا چاہئے جو ان دعوتوں