مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 17 of 251

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ سوم) — Page 17

مشعل راه جلد پنجم حصہ سوم 17 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ انتخاب کی کارروائی دیکھ کر ، جو ایم ٹی اے پر دکھائی گئی تھی ہمخالفین نے یہ اعتراف کیا کہ تمہارے بچے ہونے کا تو ہمیں پتہ نہیں لیکن یہ بہر حال پتہ لگ رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی فعلی شہادت تمہارے ساتھ ہے۔تو بہر حال یہ اللہ تعالیٰ کا جماعت احمدیہ پر بہت بڑا احسان ہے اور اس کی نعمت ہے جس کا جتنا بھی شکر ادا کریں کم ہے۔اور یہ شکر ہی ہے جو اس نعمت کو مزید بڑھاتا چلا جائے گا۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔{ لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَا زِيْدَنَّكُمْ یعنی اگر تم شکر گزار بنے رہو تو میں اور بھی زیادہ دوں گا۔اس نعمت کے جو افضال ہیں ان سے میں تمہیں بھرتا چلا جاؤں گا۔ایک فتنہ بہر حال ایک تو اس دن کی اہمیت کی وجہ سے ، آج 27 مئی ہے، اور دوسرے جو اس خطبے کا محرک بنا ہے وہ ایک مضمون ہے جو حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے لکھا تھا لیکن آج کل اس کو کوئی شخص مختلف لوگوں کو بھیج رہا ہے۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے تو خلافت کا مقام واضح کرنے کے لئے لکھا تھا اور اس کی وضاحت میں اپنے ذوق کے مطابق اس بات کا بھی ذکر فرمایا تھا کہ خلافت جماعت احمدیہ میں کب تک چلے گی یا اس کی کیا صورت ہوگی۔لیکن یہ بات بہر حال واضح ہے اور اس میں رتی بھر بھی شبہ نہیں کیا جاسکتا کہ جماعت میں کسی وقت بھی کسی انتشار کا پھیلانا حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کے ذہن میں نہیں تھایا۔مقصد نہیں تھا۔لیکن اس شخص نے جو آج کل مختلف لوگوں کو یہ مضمون بھیج رہا ہے اس کے عمل سے یہ لگتا ہے کہ جماعت خلافت کے بارے میں شکوک وشبہات میں گرفتار ہو۔مثلاً اس سے لگتا ہے کہ اس کی نیت نیک نہیں ہے کہ بذریعہ ڈاک جن کو بھی مضمون فوٹو کاپی کر کے بھجوایا گیا اس پر لکھا گیا ہے، ایک مہر لگائی ہے کہ ایک احمدی بھائی کا تحفہ۔اب اگر نیک نیت تھا تو نام کے ساتھ بلکہ نظام جماعت سے یا مجھ سے پوچھ کر بھیج سکتا تھا کہ اس طرح اس مضمون کی میں اشاعت کرنا چاہتا ہوں۔بڑی ہوشیاری دکھائی ہے کہ مضمون انہیں الفاظ میں بھیجا ہے کہ خلیفہ خدا بناتا ہے۔خلیفہ معزول نہیں کیا جاسکتا وغیرہ کی وضاحتیں بھی اس میں ہیں۔لیکن حضرت میاں صاحب کے اس نظریے کو بھی اجاگر کیا گیا ہے کہ ایک وقت میں خلافت کی جگہ ملوکیت لے لے گی یعنی بادشاہت آجائے گی۔تو بہر حال یہ حضرت میاں صاحب کا اپنا ایک ذوقی نظریہ تھا۔اور حضرت خلیفہ امسیح الثانی نے اُس وقت اس کا علم ہونے کے بعد اس نظریے کی تردید میں ایک وضاحت بھی شائع فرمائی تھی۔