مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ سوم) — Page 208
مشعل راه جلد پنجم حصہ سوم 208 ارشادات حضرت خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی کس حد تک بچے ہیں۔{ لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا } (البقرہ: 287) کے ارشاد کے بعد اس ارشاد کو بھی مد نظر رکھنا چاہیے کہ { لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ } (البقرہ: 287) یعنی نیک کام کا ثواب بھی ملے گا اور اگر ٹال مٹول کر رہے ہو گے تو نقصان بھی ہوگا۔بہر حال اگر دل میں ذرا سا بھی ایمان ہو تو ایسے لوگ جن کی غلطیوں کی وجہ سے ان سے چندہ نہیں لیا جاتا جب ایسی صورت حال پیدا ہوتی ہے جیسا کہ میں نے بیان کیا ان کی وصیت پر زد پڑتی ہے یا دوسرے لوگوں کے چندوں پر۔تو کیونکہ احمدی ہیں، دل میں نیکی ہوتی ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مانا ہے، پھر ان کے دل بے چین ہو جاتے ہیں جیسا کہ میں نے بتایا پھر معافیاں مانگتے ہیں اور ان کے لئے بات بڑی سخت تکلیف دہ بن رہی ہوتی ہے۔تو جب نظام جماعت نے یہ اجازت دی ہوئی ہے کہ بعض آدمی مجبوریوں کی وجہ سے شرح کے مطابق چندہ نہیں دے سکتے تو رعایت لے لیں تو سچائی کا تقاضا یہ ہے کہ رعایتی شرح کی منظوری حاصل کر لی جائے ، بجائے اس کے کہ غلط بیانی سے کام لیا جائے۔اور میں اس بارے میں کئی دفعہ کہہ بھی چکا ہوں کہ ایسے لوگوں کو بغیر کسی سوال جواب کے رعایت شرح مل جائے گی۔تو ایک تو جو لوگ اپنی آمد غلط بتاتے ہیں وہ غلط بیانی کی وجہ سے گناہگار ہورہے ہوتے ہیں۔دوسرے اس غلط بیانی کی وجہ سے اپنے پیسے میں بھی بے برکتی پیدا کر رہے ہوتے ہیں۔ہمیشہ یادرکھنا چاہئے کہ جس خدا نے اپنے فضل سے حالات بہتر کئے ہیں وہ ہر وقت یہ طاقت رکھتا ہے کہ ایسے لوگوں کو کسی مشکل میں گرفتار کر دے۔پس خدا تعالیٰ سے ہمیشہ معاملہ صاف رکھنا چاہئے۔مالی قربانیوں کا جہاد بی زمانہ جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا زمانہ ہے اس میں ایک جہاد مالی قربانیوں کا جہاد بھی ہے کیونکہ اس کے بغیر نہ اسلام کے دفاع میں لٹریچر شائع ہوسکتا ہے، نہ قرآن کریم کے مختلف زبانوں میں ترجمے ہو سکتے ہیں، نہ یہ ترجمے دنیا کے کونے کونے میں پہنچ سکتے ہیں۔نہ مشن کھولے جا سکتے ہیں ، نہ مربیان، تیار ہو سکتے ہیں اور نہ مربیان۔۔۔جماعتوں میں بھجوائے جا سکتے ہیں۔نہ ہی ( بیوت الذکر ) تعمیر ہوسکتی ہیں۔نہ ہی سکولوں، کالجوں کے ذریعہ سے غریب لوگوں تک تعلیم کی سہولتیں پہنچائی جاسکتی ہیں۔نہ ہی ہسپتالوں کے ذریعہ سے دکھی انسانیت کی خدمت کی جاسکتی ہے۔پس جب تک دنیا کے تمام کناروں تک اور ہر کنارے کے ہر شخص تک ( دین حق ) کا پیغام نہیں پہنچ جاتا اور جب تک غریب کی ضرورتوں کو مکمل طور پر پورا