مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ سوم) — Page 154
مشعل راه جلد پنجم حصہ سوم 154 ارشادات حضرت خلیفہ لمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ اطلاع تو دی جاسکتی ہے لیکن یہ بہانہ نہیں کیا جاسکتا کہ فلاں نے کیا تھا اس لئے ہم نے بھی کرنا ہے تا کہ اصلاح کی کوشش ہو سکے، معاشرے کی اصلاح کی جاسکے۔ناچ ڈانس اور بیہودہ قسم کے گانے جو ہیں ان کے متعلق میں نے پہلے بھی واضح طور کہہ دیا ہے کہ اگر اس طرح کی حرکتیں ہوں گی تو بہر حال پکڑ ہو گی۔لیکن بعض برائیاں ایسی ہیں جو گو کہ برائیاں ہیں لیکن ان میں یہ شرک یا یہ چیزیں تو نہیں پائی جاتیں لیکن لغویات ضرور ہیں اور پھر یہ رسم ورواج جو ہیں یہ بوجھ بنتے چلے جاتے ہیں۔جو کرنے والے ہیں وہ خود بھی مشکلات میں گرفتار ہو رہے ہوتے ہیں اور بعض جو ان کے قریبی ہیں، دیکھنے والے ہیں ، ان کو بھی مشکل میں ڈال رہے ہوتے ہیں ان میں جہیز ہیں، شادی کے اخراجات ہیں، ویسے کے اخراجات ہیں ،طریقے ہیں اور بعض دوسری رسوم ہیں جو بالکل ہی لغویات اور بوجھ ہیں۔ہمیں تو خوش ہونا چاہئے کہ ہم ایسے دین کو ماننے والے ہیں جو معاشرے کے، قبیلوں کے، خاندان کے رسم و رواج سے جان چھڑانے والا ہے۔ایسے رسم و رواج جنہوں نے زندگی اجیرن کی ہوئی تھی۔نہ کہ ہم دوسرے مذاہب والوں کو دیکھتے ہوئے ان لغویات کو اختیار کرنا شروع کر دیں۔آنحضرت ﷺ کی خوبصورت مثال۔۔۔نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا مثال ہمارے سامنے قائم فرمائی۔آپ کی لاڈلی بیٹی کی شادی ہوئی سب جانتے ہیں پہلے بھی کئی دفعہ سن چکے ہیں، کس طرح سادگی سے ہوئی؟ اگر دینا چاہتے تو بہت کچھ دے سکتے تھے۔لوگ تو قرض لے کر جہیز بناتے ہیں۔آپ کے صحابہ تو آپ پر بہت کچھ نچھاور کر سکتے تھے۔کئی صاحب حیثیت تھے، چیزیں مہیا کر سکتے تھے لیکن سادگی سے ہی آپ نے رخصت کیا۔ایک روایت میں آتا ہے کہ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا اور ام المومنین حضرت ام سلمی رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ہم کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ہم حضرت فاطمہ کو تیار کریں اور ان کو حضرت علی کے پاس لے جائیں۔اس سے پہلے انہوں نے اپنے کمرے کی تیاری کی جس کا نقشہ کھینچا کہ ہم نے کمرے میں مٹی سے لپائی کی پھر دو تکئے تیار کئے جن میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی۔پھر ہم نے لوگوں کو کھجور اور انگور کھلائے اور انہیں میٹھا پانی پلایا اور ہم نے ایک لکڑی لی جس کو ہم نے کمرے کے ایک طرف لگا دیا تا کہ اس کو کوئی کپڑا لٹکانے اور مشکیزہ لٹکانے کے لئے استعمال کیا جاسکے۔پس ہم نے حضرت فاطمہ کی شادی سے زیادہ اچھی شادی اور کوئی نہیں دیکھی۔(سنن ابی ماجہ کتاب النکاح باب الولیمہ )