مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 67 of 203

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ دوم) — Page 67

مشعل راه جلد پنجم حصہ دوم 67 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الخامس اید و اللہ تعالی ہونے والے شمار ہوا اور پھر میرے پیارے سے تمہیں محبت نہ ہو، وہ محبت نہ ہو جو مجھے ہے یا جس طرح مجھے ہے۔پھر فرمایا کہ دنیا کی اس چکا چوند سے تمہیں کوئی تعلق نہیں ہونا چاہیے۔تمہارے یہ مقاصد ہیں اور ان کو پورا کرنے کے لیے اللہ کی عبادت کا حق ادا کرنے کی کوشش کرو۔اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرو۔اللہ کی مخلوق کے حقوق ادا کرو اور اللہ تعالیٰ کے احکامات کی ادائیگی میں اس قدر کھوئے جاؤ کہ تمہیں یہ احساس ہو کہ یہ سب کچھ تم اللہ اور اس کے رسول کی محبت میں کر رہے ہو۔جب یہ حالت ہوگی تو تم ان لوگوں کی طرح کف افسوس نہیں مل رہے ہو گے جو بستر مرگ ،موت کے بستر پر بڑی بیچارگی اور پریشانی سے یہ اظہار کر رہے ہوتے ہیں کہ کاش ہم نے بھی زندگی میں کوئی نیک کام کیا ہوتا ، اللہ تعالیٰ کی عبادت ، خالص اس کی عبادت کرتے ہوئے کی ہوتی۔بہت سے لوگ بیعت کرنے کے بعد اپنے کاروبار زندگی میں مصروف ہو جاتے ہیں اور کاروبار زندگی میں مصروف ہونا بھی منع نہیں بلکہ ضروری ہے کہ انسان اپنے اور اپنے بیوی بچوں کی جائز ضروریات پوری کرنے کے سامان پیدا کرے۔لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہمیشہ یہ ذہن میں رہنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کے احکامات کے مطابق ہی تمام کام کرنے ہیں، اور اللہ تعالیٰ کے احکامات کو سمجھنے کے لیے بھی کوشش کرنی ہے تا کہ، جیسا کہ پہلے ذکر کر آیا ہوں ، بیعت کے مقاصد بھی حاصل ہوں۔جلسہ سالانہ کے ایام ٹریننگ کے لیے ہیں تو ان مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے، ٹرینگ کے لیے سال میں تین دن جماعت کے افراد ا کٹھے ہوتے ہیں اور سوائے کسی اللد مجبوری کے تمام احمدی اس میں شامل ہونے کی کوشش کریں۔یہی آپ کا منشا تھا۔کیونکہ ٹریننگ بھی بہت ضروری چیز ہے۔اس کے بغیر تو تربیت پر زوال آنا شروع ہو جاتا ہے، تربیت کم ہونی شروع ہو جاتی ہے ، کمی آنی شروع ہو جاتی ہے دیکھ لیں دنیا میں بھی اپنے ماحول میں نظر ڈالیں تو ہر فیلڈ میں ترقی کے لیے کوئی نہ کوئی تعلیم مکمل کرنے کے بعد ، ٹریننگ لینے کے بعد پھر بھی ریفریشر کورسز بھی ہو رہے ہوتے ہیں، سیمینارز وغیرہ بھی ہو رہے ہوتے ہیں تا کہ جو علم حاصل کیا ہے اسے مضبوط کیا جائے ، مزید اضافہ کیا جائے۔ٹریننگ کے لیے کمپنیاں بھی اپنے ملازمین کو دوسری جگہوں پر بھجواتی ہیں۔ملک کی فوجیں سال میں ایک دفعہ عارضی جنگ کے ماحول پیدا کر کے اپنے جوانوں کی