مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ دوم) — Page 52
مشعل راه جلد پنجم حصہ دوم 52 ارشادات حضرت خلیفة المسح الخامس ایدہ اللہ تعالی خطبہ جمعہ فرمودہ 9 جولائی 2004ء سے اقتباس * سور کے گوشت والے ہوٹلوں پر ملازمت یا کاروبار نہ کریں۔۔۔گزشتہ کسی خطبہ میں ، میرا خیال ہے شاید دو ہفتے پہلے، میں نے ایسے لوگوں کو جو ایسی جگہوں پر کام کرتے ہیں جہاں سور کے گوشت کا استعمال ہوتا ہے کہا تھا کہ ایک تو ایسی جگہوں پر کھانے کی احتیاط ہونی چاہیے اور دوسرے ایسے لوگ یہ کام چھوڑ کر کوئی اور کام تلاش کر یں۔اس پر ایک شخص نے مجھے لکھا کہ میں نے بعض ریسٹورنٹ لیے ہیں یا ایک ریسٹورنٹ لیا ہے بہر حال اس کے مطابق کیونکہ اس علاقے میں اگر کھانوں میں سور کا گوشت استعمال نہ کیا جائے پھر تو دو کا نداری نہیں چلے گی اور کاروبار نہیں چلے گا اور مختلف صورتوں میں یہ چربی کا گوشت استعمال ہوتا ہے۔تو اس نے لکھا اب تو میں یہ خرید بیٹھا ہوں اگر یہ کاروبار میں اس طرح نہ چلاؤں تو اتنا نقصان ہو گا اس لیے اجازت دی جائے۔تو جہاں تک اجازت کا سوال ہے وہ تو نہیں میں دے سکتا۔باقی یہ بھی ان کا وہم ہے کہ کاروبار نہیں چلے گا ، پکری نہیں ہوگی۔اگر نہیں بھی ہوتی تو اس کا روبار کو بیچ کر کوئی اور کاروبار تلاش کرنا چاہیے۔اللہ تعالیٰ رزق دینے والا ہے، نیک نیتی سے چھوڑیں گے تو کسی بہتر کام کے سامان پیدا فرما دے گا اور کام میسر آ جائے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک اہم ارشاد اس بارے میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا واضح ارشاد بلکہ فتوی کہنا چاہیے آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔اس کے بعد میرے خیال میں پھر کوئی عذر نہیں ہوتا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ایک مجلس میں امریکہ و یورپ کی حیرت انگیز ایجادات کا ذکر ہورہا تھا، یہ لکھنے والے لکھتے ہیں، تو اسی میں یہ ذکر بھی آ گیا کہ دودھ اور شور بہ وغیرہ جو ٹینوں میں بند ہو کر ولایت سے آتا ہے بہت ہی نفیس اور صاف ستھرا ہوتا ہے اور ایک خوبی ان میں یہ ہوتی ہے کہ ان کو بالکل ہاتھ سے نہیں چھوا جاتا