مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ دوم) — Page 20
مشعل راه جلد پنجم حصہ دوم 20 ارشادات حضرت خلیفہ المسح الخامس ایدہ اللہ تعالی تک اللہ چاہے گا یہ رہے گی اور جب چاہے گا مجھے اٹھا لے گا اور کوئی نیا خلیفہ آ جائے گا۔لیکن حضرت خلیفہ اول کے الفاظ میں میں کہتا ہوں کسی انسان کے بس کی بات نہیں کہ وہ ہٹا سکے یا فتنہ پیدا کر سکے۔جماعت اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت مضبوط ہے اور ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح ہے۔افریقہ میں بھی میں دورہ پر گیا ہوں ایسے لوگ جنہوں نے کبھی دیکھا نہیں تھا اس طرح ٹوٹ کر انہوں نے محبت کا اظہار کیا ہے جس طرح برسوں کے بچھڑے ملے ہوتے ہیں یہ سب کیا ہے؟ جس طرح ان کے چہروں پر خوشی کا اظہار میں نے دیکھا ہے، یہ سب کیا ہے؟ جس طرح سفر کی صعوبتیں اور تکلیفیں برداشت کر کے وہ لوگ آئے ، یہ سب کچھ کیا ہے؟ کیا دنیا دکھاوے کے لیے یہ سب خلافت سے محبت ہے جو ان دور دراز علاقوں میں رہنے والے لوگوں میں بھی اللہ تعالیٰ نے پیدا کی ہے۔تو جس چیز کو اللہ تعالیٰ پیدا کر رہا ہے وہ انسانی کوششوں سے کہاں نکل سکتی ہے۔جتنا مرضی کوئی چاہے، زور لگا لے۔عورتوں ، بچوں ، بوڑھوں کو با قاعدہ میں نے آنسوؤں سے روتے دیکھا ہے۔تو یہ سب محبت ہی ہے جو خلافت کی ان کے دلوں میں قائم ہے۔بچے اس طرح بعض دفعہ دائیں بائیں سے نکل کے سیکیورٹی کو توڑتے ہوئے آکے چمٹ جاتے تھے۔وہ محبت تو اللہ تعالیٰ نے بچوں کے دل میں پیدا کی ہے، کسی کے کہنے پہ تو نہیں آسکتے۔اور پھر ان کے ماں باپ اور دوسرے ارد گر دلوگ جو ا کٹھے ہوتے تھے ان کی محبت بھی دیکھنے والی ہوتی تھی۔پھر اس بچے کو اس لیے وہ پیار کرتے تھے کہ تم خلیفہ وقت سے چمٹ کے اور اس سے پیار لے کر آئے ہو۔یہ سب باتیں احمدیت کی سچائی کی دلیل ہیں۔اگر کسی کی نظر ہود یکھنے کی تبھی دیکھ سکتا ہے۔چند لوگ اگر مرتد ہوتے ہیں یا منافقانہ باتیں کرتے ہیں تو ان کی ہمیں کوئی پرواہ نہیں ہے۔ایک بدفطرت اگر جاتا ہے تو جائے، اچھا ہے خس کم جہاں پاک۔وہ اپنے بد انجام کی طرف قدم بڑھا رہا ہے وہی اس کا انجام مقدر تھا جس کی طرف جا رہا ہے۔لیکن جب اس کے مقابل پر ایک جاتا ہے تو اللہ تعالی سینکڑوں سعید روحوں کو احمدیت میں داخل کرتا ہے۔خدا ہمیں کبھی نہیں چھوڑے گا یا درکھیں وہ سچے وعدوں والا خدا ہے۔وہ آج بھی اپنے پیارے مسیح کی اس پیاری جماعت پر ہاتھ رکھے ہوئے ہے۔وہ ہمیں کبھی نہیں چھوڑے گا اور کبھی نہیں چھوڑے گا اور کبھی نہیں چھوڑے گا۔وہ آج بھی اپنے مسیح سے کئے ہوئے وعدوں کو اسی طرح پورا کر رہا ہے جس طرح وہ پہلی خلافتوں میں کرتا رہا