مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 173 of 203

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ دوم) — Page 173

مشعل راه جلد پنجم حصہ دوم 173 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الخامس اید و اللہ تعالی کی تعلیمات پر عمل کرنے والے ہیں اس حدیث کو پیش نظر رکھتے ہوئے جماعت احمدیہ میں نظام شوری بھی بہت اہمیت کا حامل ہے۔حتمی فیصلہ خلیفہ کا ہوتا ہے حضرت عمرؓ فرمایا کرتے تھے جس سے آپ کو مجلس شوری کی اہمیت کا اندازہ ہوگا کہ شوریٰ کے بغیر خلافت کی کوئی اہمیت نہیں۔یعنی ( دین حق) کے ضروری احکامات کے معاملہ میں اور دوسرے ضروری معاملات میں مشورہ طلب کرنا مذ ہبی اور دنیوی راہنماؤں یا امراء پر فرض ہے۔اگر چہ وہ اس مشورہ کو مان لینے کے پابند نہیں ہیں جیسا کہ آپ نے ترجمہ میں یہ بات سن لی ہے کہ ” جب تو ارادہ کر لے تو خدا پر بھروسہ کر۔اس لیے خلیفہ کو ہمیشہ بڑے اور بارسوخ (مومنوں ) سے مشورہ طلب کرنا چاہیے لیکن حتمی فیصلہ ہمیشہ خلیفہ کا ہی ہوتا ہے۔وہ پابند نہیں ہوتا کہ کلی یا جزوی اکثریت کا دیا ہوا مشورہ ضرور مانے۔کوئی شخص سوال یا اعتراض اٹھا سکتا ہے کہ اگر خلیفہ اکثریت کا مشورہ ماننے کا پابند نہیں تو پھر مشورہ لینے کی ضرورت ہی کیا ہے۔یا وہ یہ کہہ سکتا ہے کہ اتنے زیادہ لوگوں کا رقم کثیر خرچ کر کے اکٹھا ہونا صرف اس واسطے کہ وہ کسی معاملہ میں اپنی رائے یا مشورہ دیں اور پھر ان کی رائے کو کلی یا جزوی طور پر نامنظور کر لیا جائے اس میں تو کوئی دانشمندی نہیں۔اس آیت میں خلیفہ کو یہ حق حاصل ہے کہ مشورہ طلب کرے اور مشورہ مان لے اگر وہ اس بات پر قائل ہو جاتا ہے، مشورہ ماننا صرف اس صورت میں ہے کہ وہ قائل ہو جائے کہ ایسا کرنا جماعت یا معاشرہ کے مفاد میں ہے، خلیفہ کو کسی بھی فرد واحد کے مقابلہ میں جماعت کے بارہ میں زیادہ علم اور زیادہ درد ہے۔اگر خلیفہ وقت محسوس کرے کہ مشورہ کا نا منظور کرنا جماعت کے مفاد میں ہے تو وہ ایسا ہی کرے گا کیونکہ خلیفہ وقت مجلس شوری کے ممبران کا مشورہ ذاتی وجوہ یا ذاتی مفادات کی وجہ سے نا منظور نہیں کرتا۔اور بالعموم مجلس شوری کے ممبران کی آراء اور مشورہ جات منظور کر لیے جاتے ہیں۔بعض اوقات ایسا بھی ہوا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے بعد آپ کے خلفاء نے جماعت کے ممبران کی اکثریت کی رائے کو یا تو جزوی طور پر یا کلی طور پر نا منظور کیا۔یا بعض اوقات ایسا بھی ہوا ہے کہ مومنین کی متفقہ رائے کو کلیتہ رد کر دیا گیا اور انہیں بعد میں احساس ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یا خلفاء کا فیصلہ ہی درست تھا۔