مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 136 of 203

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ دوم) — Page 136

مشعل راه جلد پنجم حصہ دوم 136 ارشادات حضرت خلیفہ امسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی خطبه جمعه فرموده 31 دسمبر 2004ء سے اقتباسات * تشہد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کی بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:- إِنَّ اللهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَنتِ إِلَى أَهْلِهَا وَإِذَا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ إِنَّ اللَّهَ نِعِمَّا يَعِظُكُمْ بِهِ إِنَّ اللَّهَ كَانَ سَمِيْعًا بَصِيرًا۔(سورة النساء آیت : 59) یہ اللہ تعالیٰ کا جماعت احمدیہ پر بہت بڑا احسان ہے کہ اس نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے بعد نظام خلافت جماعت میں جاری فرمایا اور اس نظام خلافت کے گرد جماعت کا محلہ کی سطح یا کسی چھوٹی سے چھوٹی اکائی سے لے کر شہری اور ملکی سطح تک کا نظام گھومتا ہے۔یعنی کسی چھوٹی سے چھوٹی جماعت کے صدر سے لے کر ملکی امیر تک کا بلا واسطہ یا بالواسطہ خلیفہ وقت سے رابطہ ہوتا ہے۔پھر ہر شخص انفرادی طور پر بھی رابطہ کر سکتا ہے۔خلیفہ وقت کے پاس کسی عہدیدار کی شکایت کرنے کا طریق ہر فرد جماعت خلیفہ وقت سے رابطہ رکھتا ہے۔لیکن اگر کسی جماعتی عہد یدار سے کوئی شکوہ ہو یا شکایت ہوا اور خلیفہ وقت تک پہنچانی ہو تو ہر ایک کے انفرادی رابطے کے باوجود اس کو یہ شکایت امیر کے ذریعے ہی پہنچانی چاہیے اور امیر ملک کا کام ہے کہ چاہے اس کے خلاف ہی شکایت ہو وہ اسے آگے پہنچائے اور اگر کسی وضاحت کی ضرورت ہے تو وضاحت کر دے تا کہ مزید خط و کتابت میں وقت ضائع نہ ہو۔لیکن شکایت کرنے والے کا بھی کام ہے کہ اپنی کسی ذاتی رنجش کی وجہ سے کسی عہد یدار کے خلاف شکایت کرتے ہوئے اسے جماعتی رنگ نہ دے۔تقویٰ سے کام لینا چاہیے۔بعض دفعہ بعض کم علم یا جن میں دنیا کی مادیت نے اپنا اثر ڈالا ہوتا ہے ایسی باتیں کر جاتے ہیں جو جماعت کے وقار اور روایات کے خلاف ہوتی ہیں اس لیے ایسے کمزوروں یا کم علم رکھنے والوں کو سمجھانے کے لیے میں یہ بتا رہا ہوں کہ ایسی