مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ دوم) — Page 132
132 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الخامس اید و اللہ تعالی مشعل راه جلد پنجم حصہ دوم جاتا ہے کہ میں رشتہ کروں بھی کہ نہ۔مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ کسی طرح لڑکی والوں کو تکلیف میں ڈالا جائے۔بعض لوگ صرف عادتاً زبان کا مزہ لینے کے لیے ہنسی ٹھٹھے کے رنگ میں کسی کی کمزوری کو لے کر اچھالتے ہیں۔اور آج کل کے معاشرے میں یہ تکلیف دہ صورتحال کچھ زیادہ ابھرتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔شاید اس لیے کہ آپس کے رابطے آسان ہو گئے ہیں۔تو بہر حال کوئی خاص فائدہ اٹھانے کے لیے یا کسی کو بدنام کرنے کے لیے یا زبان کا مزہ لینے کے لیے دوسروں کی کمزوریوں اور غلطیوں کو اچھالا جاتا ہے بلکہ بعض دفعہ ایسا موقع پیدا کیا جاتا ہے کہ کوئی غلطی کسی سے کروائی جائے اور پھر اس کو پکڑ کر فائدہ اٹھایا جائے۔ستاری اختیار کریں تو ان حالات میں جیسا کہ میں نے کہا صرف ( دین حق ) اپنے ماننے والوں سے یہ کہتا ہے کہ ان بیہودگیوں اور ان لغویات سے بچو، اور اس زمانے میں، آج کل حقیقی (دین حق کا نمونہ دکھانے والا اگر کوئی ہے یا ہونا چاہیے تو وہ احمدی ہے۔اس لیے ہر احمدی کا یہ فرض بنتا ہے کہ کسی کے عیب اور غلطیاں تلاش کرنا تو دور کی بات ہے اگر کوئی کسی کی غلطی غیر ارادی طور پر بھی علم میں آ جائے تو اس کی ستاری کرنا بھی ضروری ہے۔کیونکہ ہر ایک کی ایک عزت نفس ہوتی ہے۔اس چیز کا خیال رکھنا ضروری ہے۔دوسرے اگر کوئی برائی ہے، حقیقت میں کوئی ہے تو اس کے اظہار سے ایک تو اس کے لیے بدنامی کا باعث بن رہے ہوں گے دوسرے دوسروں کو بھی اس برائی کا احساس مٹ جاتا ہے، جب آہستہ آہستہ برائیوں کا ذکر ہونا شروع ہو جائے۔اور آہستہ آہستہ معاشرے کے اور لوگ بھی اس برائی میں ملوث ہو جاتے ہیں۔برائیوں کی تشہیر نہ کریں اس لیے ہمیں واضح حکم ہے کہ جو باتیں معاشرے میں بگاڑ پیدا کرنے والی ہوں یا بگاڑ پیدا کرنے کا باعث ہو سکتی ہوں ، ان کی تشہیر نہیں کرنی ، ان کو پھیلانا نہیں ہے۔دعا کرو اور ان برائیوں سے ایک طرف ہو جاؤ۔اور اگر کسی سے ہمدردی ہے تو دعا اور ذاتی طور پر سمجھا کر اس برائی کو دور کرنے کی کوشش کرنا ہی سب سے بڑا علاج ہے۔جماعتی مفاد کے خلاف اطلاع متعلقہ عہدیدار کو دیں سوائے اس کے کہ ایسی صورت ہو کہ جس میں جماعتی خبر ہو یا جماعت کے خلاف کوئی بات سنیں ،