مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 130 of 203

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ دوم) — Page 130

مشعل راه جلد پنجم حصہ دوم 130 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الخامس اید و اللہ تعالی انہوں نے کہا چوتھا اور چوتھا بھی اللہ تعالیٰ کے دربار میں بیٹھنے کے لحاظ سے کوئی دور نہیں ہے۔(سنن ابن ماجه - كتاب اقامة الصلوة والسنة فيها باب ما جاء فی التهجير الى الجمعة) تو جمعہ پر جلدی آنے کے لیے صحابہ کی یہی کوشش ہوتی تھی اور یہ شوق ہوتا تھا۔احمد یوں کو بھی اس طرف خاص توجہ دینی چاہیے کیونکہ یہ سورہ جمعہ ہی ہے جس میں آخرین کا مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے کا پہلوں سے یعنی صحابہ سے ملنے کا ذکر ہے۔تو یہ ملنا تو تبھی ملنا ہوگا جب ہم ان کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش بھی کر رہے ہوں گے۔پس جیسا کہ میں نے کہا ہے احمدیوں کو جمعہ کی حاضری اور اس کی حفاظت کی طرف خاص توجہ دینی چاہیے۔کیونکہ ایک تو اپنی ذات میں جمعہ کی ایک خاص اہمیت ہے۔جو باتیں میں نے ابھی بتائی ہیں قرآن وحدیث سے بڑا واضح ہے۔دوسرے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ماننے کے بعد جو ایک ہاتھ پر جمع ہو کر اپنے اوپر ہم نے ایک اور زیادہ ذمہ واری ڈال لی ہے کہ اکٹھے ہو کر دعائیں کرتے ہوئے ہم نے تمام دنیا کو ایک ہاتھ پہ جمع بھی کرنا ہے۔تمام دنیا کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام کی جماعت میں شامل بھی کرنا ہے۔اس ذمہ داری کو نبھانا ہے اس کے لیے کوششیں بھی بہت زیادہ کرنی ہوں گی۔اللہ تعالیٰ اس کی توفیق عطا فرمائے۔جمعۃ الوداع کے دن کا عہد جو آج جمعۃ الوداع میں شامل ہوئے ہیں، جمعہ میں شامل ہوئے ہیں جمعۃ الوداع سمجھ کر وہ اس عہد کے ساتھ اٹھیں اور وہ لوگ بھی جو کبھی کبھار جمعوں پر آتے ہیں تین چار جمعے Miss کرنے کے بعد ایک جمعہ پڑھ لیا وہ بھی اس عہد کے ساتھ اٹھیں کہ یہ جمعہ جو ہے ، جمعۃ الوداع نہیں ہے۔بلکہ جس طرح دوڑ شروع ہونے سے پہلے ایک لائن بنائی جاتی ہے جس پر دوڑنے والے دوڑ شروع ہونے سے پہلے کھڑے ہوتے ہیں یہ جمعہ جو ہے یہ اس لائن کی طرح ہوا اور دل میں یہ عہد ہو کہ آج اس پوائنٹ سے ہم نے یا اس لائن سے ہم نے اپنی نیکیوں کی دوڑ شروع کر دینی ہے۔اور نہ کوئی نماز قضاء کرنی ہے اور نہ کوئی جمعہ چھوڑنا ہے۔بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکموں پر عمل کرتے ہوئے خاص کوشش ہمیشہ کرتے رہنا ہے۔اللہ تعالیٰ کی عبادتوں کے حقوق بھی ادا کرنے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی مخلوق کے حقوق بھی ادا کرنے ہیں۔(الفضل انٹر نیشنل 26 نومبر تا 2 دسمبر 2004ء)