مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ دوم) — Page 126
126 ارشادات حضرت خلیفہ المسح الخامس ایدہ اللہ تعالی مشعل راه جلد پنجم حصہ دوم پھر فرمایا کہ: ” انسان اگر بازار جاتا ہے تو بچے کی کھیلنے والی چیزوں پر ہی کئی کئی پیسے خرچ کر دیتا ہے۔تو پھر یہاں اگر ایک ایک پیسہ دے دیوے تو کیا حرج ہے؟ خوراک کے لیے خرچ ہوتا ہے، لباس کے لیے خرچ ہوتا ہے، اور ضرورتوں پر خرچ ہوتا ہے، تو کیا دین کے لیے ہی مال خرچ کرنا گراں گزرتا ہے۔دیکھا گیا ہے کہ ان چند دنوں میں صدہا آدمیوں نے بیعت کی ہے مگر افسوس ہے کہ کسی نے ان کو کہا بھی نہیں کہ یہاں چندوں کی ضرورت ہے۔خدمت کرنی بہت مفید ہوتی ہے۔جس قدر کوئی خدمت کرتا ہے اسی قدر وہ راسخ الایمان ہو جاتا ہے۔اور جو کبھی خدمت نہیں کرتے ہمیں تو ان کے ایمان کا خطرہ ہی رہتا ہے۔چاہیے کہ ہماری جماعت کا ہر ایک متنفس عہد کرے کہ میں اتنا چندہ دیا کروں گا کیونکہ جو شخص اللہ تعالیٰ کے لیے عہد کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے رزق میں برکت دیتا ہے۔پھر آپ نے فرمایا: ” بہت لوگ ایسے ہیں کہ جن کو اس بات کا علم نہیں ہے کہ چندہ بھی جمع ہوتا ہے۔ایسے لوگوں کو سمجھانا چاہیے کہ اگر تم سچا تعلق رکھتے ہو تو خدا تعالیٰ سے پکا عہد کر لو کہ اس قدر چندہ ضرور دیا۔کروں گا اور نا واقف لوگوں کو یہ بھی سمجھایا جاوے کہ وہ پوری تابعداری کریں۔اگر وہ اتنا عہد بھی نہیں کر سکتے تو پھر جماعت میں شامل ہونے کا کیا فائدہ۔نہایت درجہ کا بخیل ( کنجوس ) اگر ایک کوڑی بھی روزانہ اپنے مال میں سے چندے کے لیے الگ کرے تو وہ بھی بہت کچھ دے سکتا ہے۔ایک ایک قطرہ سے دریا بن جاتا ہے۔اگر کوئی چار روٹی کھاتا ہے تو اسے چاہیے کہ ایک روٹی کی مقدار اس میں سے سلسلہ کے لیے بھی الگ کر رکھے اور نفس کو عادت ڈالے کہ ایسے کاموں کے لیے اسی طرح سے نکالا کرے۔چندے کی ابتدا اس سلسلہ سے ہی نہیں ہے بلکہ مالی ضرورتوں کے وقت نبیوں کے زمانوں میں بھی چندے جمع کئے گئے تھے۔( ملفوظات جلد 3 صفحہ 358-1 36 جدید ایڈیشن) پس جیسا کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ بچوں ، کھلونوں وغیرہ پر خرچ کر دیتے ہیں تو دین کے لیے کیوں نہیں کئے جاتے۔تو اس وقت بھی جب بچوں پر خرچ کر رہے ہوتے ہیں اگر بچوں کو سمجھایا جاوے اور کہا جائے کہ تمہیں بھی مالی قربانی کرنی چاہیے اور اس لیے کہ جماعت میں بچوں کے لیے بھی ، جو نہیں کماتے ان کے لیے بھی ایک نظام ہے۔تحریک جدید ہے ، وقف جدید ہے۔تو اس لحاظ سے بچوں کو بھی مالی قربانی کی عادت ڈالنے کے لیے ان تحریکوں میں حصہ لینا چاہیے۔اس کے