مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 31 of 203

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ اوّل) — Page 31

مشعل راه جلد پنجم جماعت احمد یہ کے قیام کی غرض وغایت 31 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی اللہ تعالیٰ نے جماعت احمدیہ کو اس لئے قائم فرمایا ہے کہ دین حق ) کی اس دلکش تعلیم کو از سرنو زندہ کریں اور دنیا کو بتائے کہ ( دین حق ) حقیقتاً امن اور آشتی کا مذہب ہے۔اور ( دین حق ) ہی ایک ایسا مذہب ہے جو اعلان کرتا ہے کہ ساری مخلوق خدا تعالیٰ کی عیال ہے اور خدا کے نزدیک وہی شخص محبوب ہے جو اس کی عیال سے محبت حسن سلوک بجالاتا ہے۔بانی جماعت احمدیہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی جماعت کو یہی تعلیم دی ہے کہ بنی نوع سے ہمددری اور پیار کا سلوک کیا جائے آپ فرماتے ہیں:۔”ہمارا یہ اصول ہے کل بنی نوع کی ہمددری کروا گر کوئی شخص ہندو ہمسائے کو دیکھتا ہے کہ اس کے گھر میں آگ لگ گئی ہے اور یہ نہیں اٹھتا کہ آگ کو بجھانے میں مدد دے تو میں سچ سچ کہتا ہوں مجھ سے نہیں۔اگر ایک شخص ہمارے مریدوں میں دیکھتا کہ ایک عیسائی کوکوئی قتل کرتا ہے اور اس کو چھڑانے کے لئے مدد نہیں کرتا تو میں تمہیں بالکل درست کہتا ہوں کہ وہ ہم سے نہیں۔میں حلفاً کہتا ہوں سچ کہتا ہوں کہ مجھے کسی قوم سے دشمنی نہیں ہاں جہاں تک ممکن ہو ان کے عقائد کی اصلاح چاہتا ہوں (سراج منیر صفحہ ۱۸) قرآن کریم میں جو جہاد کا لفظ استعمال ہوا ہے اس کے معنی کو غلط رنگ دے کر جاہل مولویوں نے لوٹ مارا اور قتل وغارت کے ایسے منصوبے عوام کو سکھائے جن کا اسلامی تعلیمات سے دور کا بھی تعلق نہیں یہ اسلامی جہاد نہیں بلکہ نفس امارہ کے جوشوں کے تابع سرزد ہونے والی ناجائز حرکات ہیں جو مسلمانوں میں پھیل گئی ہیں۔اور جو اپنے گھناؤنے پن کی وجہ سے اسلام کے حسین چہرے پر ایک داغ ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام اس ضمن میں فرماتے ہیں:۔موجودہ طریق غیر مذہب کے لوگوں پر حملہ کرنے میں جو مسلمانوں میں پایا جاتا ہے جس کا نام وہ جہاد رکھتے ہیں یہ شرعی جہاد نہیں بلکہ صریحاً خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مخالف اور سخت معصیت ہے۔اسلام ہرگز یہ تعلیم نہیں دیتا کہ مسلمان رہزنوں اور ڈاکوؤں کی طرح بن جائیں اور جہاد کے بہانہ سے اپنے نفس کی خواہش پوری کریں“ گورنمنٹ انگریزی اور جہاد صفحہ ۱۷ - ۱۸) پھر اپنی جماعت کو نصیحت کرتے ہوئے حضرت اقدس علیہ السلام فرماتے ہیں:۔