مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page iii of 203

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ اوّل) — Page iii

مشعل راه جلد پنجم ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی دیباچہ کسی جنگل میں کبھی ایک ریوڑ کو دیکھنے کا اتفاق ہوا ہو۔دو منظر سامنے آتے ہیں۔ایک یہ کہ بھیٹر میں اپنی مرضی سے منہ اٹھائے کوئی کہیں چلی جا رہی ہیں اور کوئی کہیں۔دور تا حد نظر بکھری ہوئیں۔شیر اور بھیڑیئے تاک لگائے ہوئے ہیں اور جب چاہے جس کو چاہے اُچک لے جاتے ہیں اور وقت شام وہ اول تو ایک جگہ اکٹھی ہو ہی نہیں پاتیں جہاں سینگ سمائے پڑی رہتی ہیں اور اگر اکٹھی ہو بھی جائیں تو گفتی میں نہ جانے کتنی کم ہوتی ہوں انہیں تو کوئی گنے والا ہی نہیں۔بغیر چرواہے کے یہی حشر ہوتا ہے۔دوسری طرف ایک ریوڑ نظر آئے گا کہ ایک دائرے کے اندر آزادی سے، بے فکری سے، بھیڑیں آجارہی ہیں، چرتی ہوئی نظر آ رہی ہیں۔ان کی تاک میں اگر کوئی شیر یا بھیڑیا ہے بھی تو صبح سے لے کر شام تک وہ ناکام و نامراد رہتا ہے۔دیکھنے والی آنکھ حیرت زدہ رہ جاتی ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ یہ بھی ایسی ہی بھیڑیں ہیں لیکن بے فکر اور آزادانہ گھوم پھر رہی ہیں اور شیروں اور بھیڑیوں کا بھی بس نہیں چل رہا۔دیکھنے سے پتہ چلتا ہے کہ ان کا ایک چرواہا ہے ، نگہبان ہے جو اونچی جگہ پر بیٹھے ہوئے سب پر نظر رکھے ہوئے ہے۔اس کی اپنی بھیڑوں پر بھی نظر ہے اور ان کی تاک میں بیٹھے ہوئے درندوں پر بھی نظر ہے۔بھیڑیں تو کھا پی کرسستا بھی رہی ہیں اور اونگھ بھی رہی ہیں لیکن وہ چاک و چوبند ان کی رکھوالی کر رہا ہے اور شام کو جب وہ ایک آواز پر جمع ہوتی ہیں تو تر و تازہ اور شمار میں بھی پوری یہ فرق آخر کیوں ہے؟ اور کیا فرق ہے؟ صرف یہ کہ یہ بغیر چرواہے کے نہیں ہیں ، ان کا ایک چرواہا ہے، ایک گلہ بان ہے ، ایک نگران اور نگہبان ہے جس کی وجہ سے یہ ساری حفاظت انہیں میسر آ رہی ہے۔تو میں بھی بغیر نگہبان کے ایسی ہی ہوا کرتی ہیں اور نگہبانی بھی اگر خدا کی نیابت میں ہو کہ گویا خود خدا ہی زمین پر اتر آئے تو اس کے کیا کہنے۔خلافت کی نگہبانی بھی کچھ ایسی ہی ہوا کرتی ہے۔جس قوم کے سر پر خلیفہ کا ہاتھ ہو جو قوم خلیفہ کی نگہبانی اور نگرانی میں ہے اس کی قسمت اور اس کا نصیب تو قابل رشک ہے۔اور خدا کا لاکھ لاکھ شکر واحسان ہے کہ ہمیں خلافت کی اس نعمت سے اس نے سرفراز کیا۔ایک خلیفہ دیا جو ہمارے لئے دعائیں کرتا ہے۔ہم