مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ اوّل) — Page 176
176 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی مشعل راه جلد پنجم ہے، یہ پتہ نہیں۔لیکن دیکھیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پندرہ سو سال پہلے ہمیں بتادیا کہ سوکر اٹھو تو پہلے دانت صاف کرو۔اب ان باتوں کو دیکھ کر آج کل کے ڈاکٹر اور سائنسدان کو خدا اور اسلام کی سچائی پر یقین ہونا چاہیے کہ جو باتیں اس زمانے کی تحقیق سے ثابت ہورہی ہیں اور اب پتہ لگ رہی ہیں وہ باتیں آج سے پندرہ سوسال پہلے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں بتا چکے ہیں۔کھانا کھانے کے آداب کھانا کھانے سے پہلے بھی ہاتھ دھونے کا حکم آتا ہے۔آپ کھانا کھانے سے پہلے اور بعد میں ہاتھ دھوتے تھے اور کلّی کرتے تھے بلکہ ہر پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد کلی کرتے اور آپ کی ہوئی چیز کھانے کے بعد بغیر کلی کئے نماز پڑھنے کو نا پسند فرماتے تھے۔( بخاری کتاب الاطعمہ ) کھانا کھا کرکلی بھی کرنی چاہیے اور ہاتھ بھی دھونے چاہئیں۔اور اس سے پہلے بھی تا کہ ہاتھ صاف ہو جائیں۔اور بعد میں اس لئے کہ سالن کی بُو منہ اور ہاتھوں سے نکل جائے۔آج کل تو مصالحے بھی ایسے ڈالے جاتے ہیں کہ کھاتے ہوئے شاید اچھے لگتے ہوں لیکن اگر اچھی طرح ہاتھ منہ نہ دھویا ہو تو بعد میں دوسروں کے لئے کافی تکلیف دہ ہوتے ہیں۔پھر آپ نے یہ بھی فرمایا کہ ہاتھ دھو کر دائیں ہاتھ سے کھانا کھانا چاہیے۔( بخاری۔کتاب الاطعمہ باب التسمية على الطعام والا کل بالیمین ) دوسری جگہ فرمایا گند وغیرہ کی صفائی کے لئے بایاں ہاتھ استعمال کرو۔لیکن آج کل یہاں یورپ میں کیونکہ لوگوں کو احساس نہیں ہے دائیں اور بائیں کا ، اکثر دیکھا ہے گورے انگریز ، عیسائی بائیں ہاتھ سے ہی کھا رہے ہوتے ہیں۔کبھی سڑک پہ جاتے ہوئے نظر پڑ جائے تو ہاتھ میں برگر ہوتا ہے ہمیشہ دیکھیں گے بائیں ہاتھ سے کھا رہے ہوں گے۔چپس کا لفافہ دائیں ہاتھ میں ہوگا اور بایاں ہاتھ استعمال ہورہا ہوگا۔بعض لوگ اس کی تقلید کرتے ہیں، اس سے بچنا چاہیے۔کھانا بہر حال دائیں ہاتھ سے کھانا چاہئے۔پھر ایک روایت میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دس باتیں فطرت انسانی میں داخل ہیں۔مونچھیں تراشنا، ڈاڑھی رکھنا ( خاص مردوں کے لئے ہے)، مسواک کرنا ، پانی سے ناک صاف کرنا ، ناخن کٹوانا ، انگلیوں کے پورے صاف رکھنا بغلوں کے بال لینا، زیر ناف بال لینا، استنجاء کرنا طہارت کرنا۔راوی کہتا ہے کہ میں دسویں بات بھول گیا ہوں شاید وہ کھانے کے بعد کلی کرنا ہے۔(مسلم۔کتاب الطہارۃ باب خصال الفطرة )