مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ اوّل) — Page 108
مشعل راه جلد پنجم 108 ارشادات حضرت خلیفہ المسح الخامس ایدہ اللہ تعالی میں ان کے کام آنا ہے۔اگر آپ یہ فطری تقاضے پورے نہیں کرتے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسے عہد یدار کے دل میں تکبر پایا جاتا ہے۔(3)۔۔۔۔امراء اور عہد یداران یا مرکزی کارکنان یہ دعا کریں کہ ان کے ماتحت یا جن کا ان کو نگران بنایا گیا ہے شریف النفس ہوں۔جماعت کی اطاعت کی روح ان میں ہو اور نظام جماعت کا احترام ان میں ہو۔(4) کبھی کسی فرد جماعت سے کسی معاملہ میں امتیازی سلوک نہ کریں اور یہ بھی یاد رکھیں کہ بعض لوگ بڑے ٹیڑھے ہوتے ہیں۔مجھے علم ہے کہ امراء کے عہدیداران کے یا نظام جماعت کے ناک میں دم کیا ہوتا ہے ایسے لوگوں نے۔لیکن پھر بھی ان کی بد تمیزیوں کو جس حد تک برداشت کر سکتے ہیں کریں اور ان کی طرف سے پہنچنے والی تکلیف پر کسی قسم کا شکوہ نہ کریں۔بدلہ لینے کا خیال بھی کبھی دل میں نہ آئے۔ان کے لئے دعا کریں۔اللہ تعالیٰ سے مدد مانگیں۔(5) پھر یہ کہ نظام جماعت کا استحکام اور حفاظت سب سے مقدم رہنا چاہیے اور اس کے لئے ہمیشہ کوشش کرتے رہنا چاہیے۔پھر کبھی اپنے گرو جی حضوری کرنے والے یا خوشامد کرنے والے لوگوں کو اکٹھا نہ ہونے دیں۔جن عہد یداران پر ایسے لوگوں کا قبضہ ہو جاتا ہے۔پھر ایسے عہدیداران سے انصاف کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ایسے عہدیدار پھر ان لوگوں کے ہاتھ میں کٹھ پتلی بن جاتے ہیں تبھی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دعا کی تلقین فرمائی ہے کہ اللہ تعالیٰ کبھی بُرے مشیر میرے ارد گر دا کٹھے نہ کرے۔(6) پھر یہ بھی یا درکھنے والی بات ہے جیسا کہ میں بیان بھی کر چکا ہوں کہ جہاں نظام جماعت کے تقدس پر حرف نہ آتا ہو۔عفو اور احسان کا سلوک کریں۔ان کے لئے مغفرت مانگیں جو ان کی اصلاح کا موجب بنے۔یہ تو عہد یدار ان کے لئے ہے۔لیکن آخر میں میں پھر احباب جماعت کے لئے ایک فقرہ کہہ دیتا ہوں کہ آپ پر بھی جو عہد یدار نہیں ہیں ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے وہ یہ ہے کہ آپ کا کام صرف اطاعت، اطاعت اور اطاعت ہے اور ساتھ دعا کرنا ہے اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنی ذمہ داریاں سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ایک خصوصی دعا کی تحریک آخر میں میں ایک دعا کی بھی تحریک کرنا چاہتا ہوں۔بنگلہ دیش کے حالات کافی Tense ہیں بڑے