مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 414 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 414

مشعل راه جلد سوم 414 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالی ہیں کہ اب ہم جماعت کی حد سے باہر نکل گئے ، اب ہم آزاد ہو گئے ، اب ہمارا کچھ نہیں کیا جاسکتا۔یہ چالا کی تو ہوتی ہے لیکن عقل نہیں ہوتی۔وہ چالا کی سے اپنا نقصان کرنے والے ہوتے ہیں۔ابھی کچھ عرصہ پہلے میرے سامنے ایک ایسے واقف زندگی کا معاملہ آیا جس کی ایسے ملک میں تقرری تھی کہ اگر وہاں ایک معین عرصہ تک وہ رہے تو وہاں کی Nationality کا حق دار بن جاتا تھا۔بعض وجوہات سے میں نے اس کا تبادلہ ضروری سمجھا۔چنانچہ جب میں نے اس کا تبادلہ کیا تو چھ یا سات ماہ ابھی اس مدت میں باقی تھے جس کے بعد وہ نیشنیلٹی کا حقدار بنتا تھا۔تو اس کے بڑے لجاجت کے اور محبت اور خلوص کے خط آنے شروع ہوئے کہ مجھے یہاں قیام کی کچھ مزید مہلت دی جائے۔میں نے وہ مہلت دے دی۔بعض صاحب فہم لوگوں نے یہ سمجھا کہ وہ مجھے بیوقوف بنا گیا ہے۔چنانچہ انہوں نے لکھا کہ جناب یہ تو آپ کے ساتھ چالا کی کر گیا ہے اور یہ تو چاہتا ہے کہ عرصہ پورا ہو اور پھر وقف سے آزاد ہو جائے ، پھر اس کو پر واہ کوئی نہ رہے۔میں نے ان کو بتایا یا لکھا کہ مجھے سب پتہ ہے۔آپ کیا سمجھتے ہیں کہ میرے علم میں نہیں کہ یہ کیوں ایسا کر رہا ہے۔لیکن وہ میرے ساتھ چالا کی نہیں کر رہا۔وہ اپنے نفس کے ساتھ چالا کی کر رہا ہے۔وہ ان لوگوں میں سے ہے جن کے متعلق قرآن کریم فرماتا ہے يُخْدِعُونَ الله وَالَّذِينَ آمَنُوا وَمَا يَخْدَعُونَ إِلَّا أَنْفُسَهُمُ (البقرہ:۱۲) اس لئے میں اس کی ڈور ڈھیلی چھوڑ رہا ہوں تا کہ یہ جو مجھے ظن ہے اور آپ کو بھی ہے یہ کہیں بدظنی نہ ہو۔اگر وہ اس قسم کا ہے جیسا آپ سمجھ رہے ہیں اور جیسا مجھے بھی گمان ہے تو پھر وقف میں رہنے کے لائق نہیں ہے۔بدظنی کے نتیجہ میں یعنی اس ظن کے نتیجہ میں جو بدظنی بھی ہو سکتی ہے بجائے اس کے کہ ہم اس کو بدلتے پھریں اور اس کو بچاتے پھریں اس کو موقع ملنا چاہیے۔چنانچہ وہ حیران رہ گیا کہ میں نے اس کو اجازت دے دی ہے۔پھر اس نے کہا اب مزید اتنا عرصہ مل جائے تو اتنا روپیہ بھی مجھے مل جائے گا۔میں نے کہا بیشک تم وہ بھی لے لو اور جب وہ واپس گیا تو اس کے بعد وہی ہوا جو ہونا تھا۔کیسی بے وقوفوں والی چالا کی ہے۔بظاہر سمجھ کی وہ بات جو تقویٰ سے خالی ہوا کرتی ہے اس کو ہم عام دنیا میں چالا کی کہتے ہیں۔پس اپنے بچوں کو سطحی چالاکیوں سے بھی بچائیں۔بعض بچے شوخیاں کرتے ہیں اور چالاکیاں کرتے ہیں اور ان کو عادت پڑ جاتی ہے۔وہ دین میں بھی پھر ایسی شوخیوں اور چالاکیوں سے کام لیتے رہتے ہیں اور اس کے نتیجہ میں بعض دفعہ ان شوخیوں کی تیزی خود ان کے نفس کو ہلاک کر دیتی ہے۔اس لئے وقف کا معاملہ بہت اہم ہے۔واقفین بچوں کو یہ سمجھائیں کہ خدا