مشعل راہ جلد سوم — Page 34
مشعل راه جلد سوم 34 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالی جاپان والی کی قیمت کم ہے۔غرض علم کے ہر میدان میں جہاں وہ داخل ہوئے ہیں وہ آگے بڑھ گئے ہیں۔آج حکمت احمدیت کے سپرد ہوئی ہے پس احمدی کیوں یہ کام نہیں کرتا۔نقالی علم میں بری چیز نہیں ہے۔علم میں تو نقالی قابل تعریف ہے۔کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیشہ کے لیے یتعلیم دی ہے۔الحِكْمَةُ ضَالَّةُ المُؤْمِن۔حکمت تو مومن کی گمشدہ چیز ہے۔وہ اس بات سے نہ شرمائے کہ میں کسی کی اچھی بات میں نقالی کیوں کروں۔اچھی بات میں مومن نقالی کے لئے ہی پیدا کیا گیا ہے۔وہ یہ سمجھے کہ یہ میری چیز تھی۔کیسی عجیب تعلیم ہے۔آگے بڑھنے کے لئے اکسیر کا حکم رکھتی ہے۔ایسے پیارے رنگ میں انگیخت کیا۔فرمایا کہ وہ حکمت تو تمہاری چیز تھی۔خدا نے تو حکمت تمہارے ساتھ وابستہ کر دی تھی۔تم سے کھوئی گئی ہے۔تم بے پرواہ ہو گئے ہو۔کسی اور قوم نے اختیار کر لی۔شرمندگی جو ہے وہ تو ہے لیکن چونکہ تمہاری اپنی چیز تھی اس کو لے لو اس میں انقباض نہ کرنا یا تر و دنہ کرنا۔پس آج حکمت احمدیت کے سپرد ہوئی ہے۔آج اللہ کی آنکھ میں حکمت احمدیت کی لونڈی ہے۔اگر یہ آپ کے ہاتھ سے نکلی ہے اور دنیا میں در بدر پھر رہی ہے تو جہاں ملتی ہے آپ اس کو حاصل کریں۔یہ آپ کی ملکیت ہے۔لیکن آئندہ پھر غافل نہیں ہونا۔آئندہ اس کو ہاتھ سے جانے نہیں دینا۔پھر یہ ہو کہ لوگ آپ سے عاریہ حکمت مانگیں۔آپ کی حکمت کی خیرات کھائیں کیونکہ جس کی ملکیت ہے وہ حق رکھتا ہے کہ آگے تقسیم کرے۔یہ تو نہیں کہ ملکیت آپ کی ہے اور ساری ملکیت گم شدہ ہو اور آپ ویرانوں میں در بدرگھومتے پھرتے ہوں کہ کہیں سے میری گم شدہ چیز مل جائے۔یہ نقشہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہیں کھینچا تھا۔نقشہ یہ تھا کہ تم مالک ہو۔اکثر صورتوں میں حکمت تم سے پھوٹ رہی ہے۔میں مان لیتا ہوں کہ کہیں ا گا دگا کوئی اور حکمت میں تم سے آگے نکل جائے تو وہاں بھی میں تمہیں بتاتا ہوں کہ یہ تمہاری چیز ہی تھی۔غلطی ہو گئی ہے تم سے غفلت ہوگئی ہے کہ وہ کسی اور کے قبضہ میں چلی گئی ہے۔غرض اگر احمدی انجینئر اپنے آپ کو اپنے دائرہ میں فعال کرے، احمدی آرکیٹکٹ اپنے دائرہ میں فعال کرے تو روز بروز اس کے سامنے نئے سے نئے نقشے کھلتے جائیں گے۔سوچ کے نتیجہ میں نئی سے نئی چیزیں پیدا ہوتی ہیں۔چھوٹی چھوٹی چیزیں ہیں ان میں نقالی شروع کریں۔خود چیز میں بنائیں اس سے پھر