مشعل راہ جلد سوم — Page 212
212 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم ہوں خاک ہے ان آنکھوں پر کیوں مجھے یہ آنکھیں ملی ہیں؟ جو اللہ کی راہ میں آنسو پہ آنسو نہیں بہانا جانتیں۔اور پھر میرا دل اس غم سے ایسا بھر جاتا ہے کہ پھر عشق خدا ابھرا بھر کر اور اہل اہل کرمیری آنکھوں سے برسنے لگتا ہے۔تو اگر آپ کو یہ توفیق نہ ملے تو اس قسم کی دردناک باتیں سوچا کریں جیسے اس جرمن کو خدا نے تو فیق عطا فرمائی۔کوشش کریں اور بے شک مصنوعی طریق اختیار کریں لیکن محبت میں تصنع نہ ہو درد پیدا کرنے میں بے شک تصنع سے کام لیں۔اگر یہ درد ایک دفعہ دل میں پیدا ہو جائے تو پھر وہ خود پکڑے گا اور آپ کی ساری ہستی پر یہ غالب آجائے گا۔اس لئے خدا تعالیٰ کی عبادت اس طرح کریں کہ اس میں پیار اور محبت شامل ہو جائے۔بنی نوع انسان کی ہمدردی جہاں تک دوسرے حصہ کا تعلق ہے یعنی بنی نوع انسان کی ہمدردی اس میں رحمۃ للعالمین کا خطاب جو اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عطا فر ما یا وہ اس جنگ میں ہمارا دوسرا باز و مضبوط کر رہا ہے۔آپ کی حفاظت کے لئے دائیں طرف عبادت کھڑی ہو جائے گی اور بائیں طرف بنی نوع انسان کی سچی ہمدردی آپ کی حفاظت کر رہی ہوگی۔اس ہمدردی کا راز یہ ہے اور رحمت قرار دینے میں حکمت یہ ہے کہ الہی جماعتوں کی شدید مخالفتیں ہوا کرتی ہیں اور الہی جماعتوں کے خلاف شدید نفرتیں پیدا کی جاتی ہیں اور بعض دفعہ کم حوصلہ لوگ رستہ میں ہمت ہار بیٹھتے ہیں اور پھر نفرتوں کا جواب نفرت سے دینے لگ جاتے ہیں یا جہاں جہاں انہیں طاقت نصیب ہو وہاں وہ سمجھتے ہیں کہ اب ہمارا حق ہے کہ نفرت کا جواب نفرت سے، پتھر کا جواب پتھر سے، جوتی کا جواب جوتی سے دیں۔رحمتہ للعالمین ایک ایسی کیفیت ہے جو کسی وقت بھی نفرت میں تبدیل نہیں ہوتی کسی حال میں بھی انسان کو منتقم نہیں بناتی بلکہ بنی نوع انسان کی سچی ہمدردی کی یہ کیفیت مسلسل زندہ رکھتی ہے۔پس جماعت احمدیہ کے لئے یہ بہت ہی ضروری ہے کہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی غلامی میں رحمت بنے کی کوشش کریں۔دنیا آپ کو لاکھ گالیاں دے آپ پر پتھراؤ کرے۔آپ کے گھروں کو جلانے کے عزائم کرے۔لاکھ سکیمیں بنائے اور دنیا کے ملک ملک میں آپ کے خلاف تحریکیں چلائے۔آپ کے امن کو برباد کر دے لاکھ کوشش کرے کہ جڑوں سے اکھیڑ کر پھینک دے۔ایک ایک احمدی کو اپنے گھروں میں اور پھر ان کے گھروں کو جلا کر خاکستر کر دے۔نفرتیں جو بد شکل اختیار کر سکتی ہے وہ کر جائیں جو