مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 189 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 189

مشعل راه جلد سوم 189 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالیٰ ر حاصل کرتی ہوئی نکلی ہیں۔احمدی اساتذہ کی نیکی اور بچوں سے شفقت اور پیار اور سچی ہمدردی کا بڑا گہرا اثر پایا جاتا ہے وہاں کی سوسائٹی میں۔چاروں طرف ان کے شاگرد پھیلے پڑے ہیں اور بڑے بڑے عہدوں پر فائز ہیں۔وہ اپنے اساتذہ کا بہت احترام کرتے ہیں۔پس نبی کی جماعت میں اللہ کے فضل کے ساتھ کام کرنے کی بڑی صلاحیت موجود ہے اور وہ فیصلہ بھی کر چکے ہیں کہ وہ کام کریں گے۔میں نے ان کو دعاؤں کی طرف بھی توجہ دلائی ہے اور بتایا ہے کہ میں بھی انشاء اللہ تعالیٰ دعاؤں میں یاد رکھوں گا چنانچہ مجھے جہاں تک توفیق ملتی ہے میں ان کو باقاعدہ دعاؤں میں یاد رکھتا ہوں۔لیکن آپ کو بھی میں یہ کہتا ہوں کہ آپ بھی ان کے لئے بکثرت دعائیں کریں۔اللہ تعالیٰ ان کی توقعات سے بڑھ کر پھل عطا فرمائے ان کی عقلیں حیران رہ جائیں کہ اس طرح خدا تعالیٰ فضلوں کی بارش برسایا کرتا ہے۔خدا کے فضل بارش کی طرح نازل ہونے والے ہیں حقیقت یہ ہے کہ نبی کوئی بڑی جگہ نہیں ہے چند دنوں کا قصہ ہے۔بس ایک قدم ، اور ایک چھلانگ ،اور ایک جھپٹا مارنے کی دیر ہے سارا نجی اللہ تعالیٰ کے فضل سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں پڑا ہوگا اس لئے میں بڑا پر امید ہو کر لوٹا ہوں اور اپنے رب سے بہت ہی تو قعات وابستہ کر کے آیا ہوں لیکن میں جانتا ہوں۔میں کیا اور میری توقعات کیا۔میرے خدا کے فضل لا انتہا ہیں اور اس کی عطا کرنے کی قوتیں لا محدود ہیں۔جب وہ فضل کرنے پر آئے گا، جب وہ رحم فرمائے گا تو میری تو قعات اس کے مقابل پر اس طرح لگیں گی جیسے کیری کا گھروندا ہو اور کوہ ہمالہ کے دامن میں پڑا ہوا ہو۔کوئی بھی اس کی حیثیت نظر نہیں آئے گی۔پس آپ بھی دعائیں کریں اور میں بھی دعائیں کروں گا ساری جماعت اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا انتظار کرے کیونکہ میں دیکھ چکا ہوں، مجھے نظر آ رہا ہے کہ خدا کے فضل بارش کی طرح نازل ہونے والے ہیں اور ساری دنیا میں انشاء اللہ تعالیٰ ( دین حق ) کے پھیلنے کے دن قریب آگئے ہیں۔(ماہنامہ خالد ربوہ جنوری 1984 صفحہ 25 تا 34)