مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 149 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 149

149 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالیٰ مشعل راه جلد سوم فرد کو نماز کی تعلیم دیتے تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بھی یہی طریق تھا کہ آپ اپنی بیویوں کو نماز کے لئے اٹھاتے تھے۔پھر بچوں اور دامادوں کو بھی جگایا کرتے تھے۔چنانچہ حضرت علی کرم اللہ وجھہ کے متعلق آتا ہے کہ حضور ان کے ہاں گئے اور فرمایا اٹھونماز کا اور عبادت کا وقت ہو گیا ہے۔پس ہمیں بھی اپنے گھروں میں یہی اسوہ زندہ کرنا پڑے گا۔مردا اپنی بیویوں کو نماز کا پابند کریں اور ان سے یہ توقع رکھیں کہ جب وہ خود گھر پر نہ ہوں تو عورتیں ان کے نائب کے طور پر بچوں کی نمازوں کی حفاظت کریں گی۔اگر گھروں میں نمازوں کی فیکٹریاں نہ بنیں تو پھر جماعتی تنظیم کی کوششیں پوری طرح کارآمد نہیں ہوسکتیں۔خدام الاحمدیہ اور انصار اللہ کو ان بچوں کے لئے بہت محنت کرنی پڑتی ہے جن کے والدین نماز سے غافل ہوتے ہیں۔ہزار کوشش کے بعد ان کو وہ پھل ملتا ہے جو گھر میں والدین صرف چند کلمات کے ذریعہ حاصل کر سکتے ہیں۔جب دیکھیں نماز کا وقت ہو گیا ہے تو بچے کو بتا ئیں اور نماز کے لئے کہیں چنانچہ لجنہ اماءاللہ کی طرف سے ماؤں کو تاکید ہونی چاہیے اور خاوندوں کی طرف سے بیویوں کو تاکید ہونی چاہیے کہ وہ اس کام میں مدد کریں اور اپنی اولاد کو بچانے کی کوشش کریں۔اگر ہم ساری دنیا میں یہ کام کرنے میں کامیاب ہو جائیں اور احمدیوں کی بھاری اکثریت نماز پر اس طرح قائم ہو جائے کہ جہاں باجماعت نماز پڑھی جاسکتی ہے وہاں لازماً باجماعت نماز پڑھی جارہی ہو اور جہاں باجماعت نما ز ممکن نہ ہو وہاں انفرادی نماز کا انتظام ہو، اس کو تمام شرائط کے ساتھ ادا کیا جائے توجہ کے ساتھ اور سوز و گداز کے ساتھ ادا کیا جائے تو اس سے اتنی بڑی طاقت پیدا ہو جائے گی کہ ساری دنیا کی طاقتیں مل کر بھی اس جماعت کا مقابلہ نہیں کر سکیں گی۔کجا یہ کہ چند دھاگے اللہ تعالیٰ سے ملے ہوئے ہوں اور وہ جو طاقت حاصل کر رہے ہوں وہ ساری جماعت میں بٹ رہی ہو اور کجا یہ کہ ہر شجر کی شاخیں آسمان تک پہنچی ہوں اور ہر شجر کو براہ راست اللہ تعالیٰ کی طرف سے رحمت کے پھل لگ رہے ہوں۔بڑ کے درخت جب بوڑھے ہو جاتے ہیں۔تو ان میں سے بعض کی شاخیں زمین کی طرف جھک جاتی اور جڑیں بن جاتی ہیں۔اسی طرح جماعت احمدیہ کو عبادت کے معاملے میں بڑکا وہ درخت بن جانا چاہیے جس کی ہر شاخ سے جڑیں پھوٹ رہی ہوں اور زمین کی طرف جھک رہی ہوں اور براہ راست زمین سے طاقت لے کر آسمان کی رفعتوں میں اس طرح بلند ہو جائیں کہ ہر ایک کو ہمیشہ ہر حال میں اللہ کی رحمتوں کے، الہامات کے، کشوف کے اور وحی کے پھل لگ رہے ہوں اور ہر احمدی کو خدا کی تائید حاصل ہورہی ہو۔یہ ایک عظیم الشان طاقت ہے۔دُنیا اس کا مقابلہ کیسے کرسکتی ہے۔یہ تو اتنی عظیم الشان طاقت ہے کہ نبی