مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 137 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 137

مشعل راه جلد سوم 137 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالی تشہد وتعو ذاور سورہ فاتحہ کے بعد حضور نے فرمایا: - ساری تعلیم کا خلاصہ قرآن کریم نے مذہب کا اور خود اپنا جو خلاصہ شروع میں پیش کیا ہے وہ تین لفظی ہے۔سورۃ البقرہ کی پہلی آیت میں تو کتاب کا تعارف ہے اور اس کی تعلیم کا خلاصہ پیش کیا گیا ہے۔جیسا کہ فرمایا اسم ہ ذلک الْكِتَبُ لَا رَيْبَ فِيْهِ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ۔اور اگلی آیت میں اس ساری تعلیم کا خلاصہ یہ بیان فرمایا۔الَّذِینَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ وَيُقِيمُونَ الصَّلوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنهُمْ يُنْفِقُونَ۔یعنی ایمان بالغیب، اقامت الصلوة اور انفاق فی سبیل اللہ۔اگلی آیت یعنی وَالَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِمَا أَنزَلَ إِلَيْكَ وَ مَا أُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ وَ بِالْآخِرَةِ هُمُ يُوقِنُونَ میں پہلی آیت کی تفصیل بیان فرمائی کہ غیب کے کیا معنی ہیں ، مومن اقامت صلوٰۃ کی تعلیم کس سے لیتے ہیں، کس طرح اس کا حق ادا کرتے ہیں اور انفاق فی سبیل اللہ جو دراصل بنی نوع انسان کے حقوق کی ادا ئیگی ہے، وہ کیسے اختیار کرتے ہیں۔چنانچہ فرمایا کہ مومن یہ سب باتیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سیکھتے ہیں جیسا کہ آپ سے پہلے بھی خدا نے جو بزرگ بھیجے تھے ان سے لوگ سیکھتے رہے تھے اور آئندہ بھی بچی تعلیم وہی سکھائے گا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت سے خدا ہی سے پائے گا۔پس اس نظام کا خلاصہ بیان فرما دیا جس کے ذریعے انسان ایمان بالغیب سیکھتا ہے اور یہ نظام خود ایمان بالغیب کا ہی حصہ ہے۔پھر وہ اقامت صلوۃ یعنی حقوق اللہ کی تعلیم حاصل کرتا ہے اور پھر انفاق فی سبیل اللہ یعنی بنی نوع انسان کے حقوق ادا کرنے کے اسلوب سیکھتا ہے۔الغرض پہلی تین باتیں جن کی طرف قرآن کریم مومن کو متوجہ کرتا ہے جن کے بغیر نہ وہ متقی بن سکتا ہے،