مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 440
د و مشعل راه جلد دوم فرمودہ ۱۹۷۷ء الله 440 اللہ تعالیٰ مجھے ان کو یہ بتانے کی توفیق دیتا ہے کہ تم نے جوریسرچ کی ہے اس کے اندر یہ غلطیاں ہیں اور اسلام نے جو اصول ہمارے سامنے رکھے ہیں وہ ان چیزوں سے کہیں بالا ہیں جو تمہاری تحقیق نے علم کے میدان میں دریافت کی ہیں۔ھوالذی ارسل رسوله بالهدى و دين الحق ليظهره على الدين كله - یہ کام اس انقلاب عظیم کا عروج ہے کہ اسلام تمام ادیان باطلہ پر غالب آجائے اور نوع انسانی کو امت واحدہ بنادے اور یہ اس کی صلى الله اصل غرض ہے محمد ﷺ کے ذریعے آپ کی بعثت کے ساتھ جو انقلاب عظیم برپا ہوا اس کا اصل مقصد یہی تھا کہ سارے کے سارے انسان کیا مغرب میں بسنے والے کیا مشرق میں بسنے والے کیا شمال میں کیا جنوب میں کیا براعظموں میں کیا جزائر میں سارے کے سارے ایک خاندان کی طرح ہو جائیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ اگر یہ مقصد آپ کی زندگی میں ہی یا پہلی تین صدیوں میں پورا ہو جا تا تو لوگ سمجھتے کہ چونکہ آخری مقصد پورا ہو گیا ہے اس لئے آپ کا زمانہ بھی ختم ہو گیا۔یہ مدعی اللہ کا انقلاب ہے اور محمد ﷺ کی قوت قدسیہ اور روحانی افاضہ کے ذریعہ سے ہی اس نے پیدا ہونا ہے۔لیکن اس کے آخری مقصد کے پورا ہونے کا تعلق آخری زمانہ سے ہے اور وہ یہ زمانہ ہے ( آپ صلعم ) کے ایک خادم مسیح موعود کا زمانہ ! اپس آپ وہ لوگ ہیں جن کے کندھوں پر یہ ذمہ داری ڈالی گئی ہے کہ محمد ﷺ کو جو بشارت دی گئی تھی کہ آپ کو جو دین دیا گیا ہے جو شریعت عطا کی گئی ہے۔جو مذہب دیا گیا ہے یعنی اسلام وہ تمام نوع انسانی کو امت واحدہ بنادے گا اس کیلئے آپ جد و جہد کریں۔اسلام ایک انقلاب عظیم ہے، اتناز بردست انقلاب کہ نہ پہلے کبھی آیا اور نہ آئندہ کبھی آئے گا۔اس کے نتیجے میں سارے انسان ہینکڑوں قسم کی بولیاں بولنے والے، جن کی عادتیں مختلف ، جن کا رہن سہن مختلف، سارے کے سارے انسان اسلام کی روشنی حاصل کرنے کے بعد محمدعلیہ کے جھنڈے تلے جمع کر دئیے جائیں گے اور یہ کام مہدی کے زمانہ میں مقدر تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے اور صرف آپ نے ہی نہیں فرمایا بلکہ پہلوں نے بھی لکھا ہے۔امت کے جو بڑے بڑے بزرگ علماء پہلے گزرے ہیں انہوں نے بھی کہا ہے کہ آیت ھو الذی ارسل رسول بالهدى و دين الحق ليظهره على الدين كله کے مطابق ساری دنیا میں اسلام کا کامل غلبہ آخری زمانہ میں مہدی کے ہاتھ سے ہوگا جو کہ محمد علیہ کا ایک روحانی فرزند ہے۔جس کا پیار اپنے آقا محمد اللہ سے اتنا عظیم ہے کہ جب آپ محمد ﷺ کی بات کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی روح کی صرف یہی پکار ہے کہ میں تو کوئی چیز نہیں ہوں سب کچھ محمد یا اللہ کا ہے اور انہی کی خدمت پر میں مقر ر کیا گیا ہوں۔احمدی کی ذمہ داری محمد اللہ کے اس خادم نے محمد ی ہے کے اس روحانی فرزند نے ایک ایسی جماعت پیدا کرنی ہے اور خدا کے منل سے پیدا کی ہے جن کے ذریعہ سے، جن کی دعاؤں کے ذریعہ سے، جن کی مالی قربانیوں کے ذریعہ سے ، جن