مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 546
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم 518 وقت آئے گا جب اکثریت عربوں کی مسیح موعود کی بیعت میں آکر آپ کے لئے دعائیں کی کرنے والی ہوگی کیونکہ یہ بھی اس خدا کا الہام ہے جس نے آپ کو مبعوث فرمایا تھا۔فرمایا يَدْعُونَ لَكَ ابْدَالُ الشَّامِ وَعِبَادُ اللهِ مِنَ الْعَرَب یعنی تیرے لئے ابدال شام کے بھی دعا کرتے ہیں اور بندے عرب میں سے بھی دعا کرتے ہیں۔جنہوں نے مسیح موعود کو مان لیا ہے آج ان پر یہ بھی فرض ہے کہ مسیح محمدی کے مشن کیلئے دعائیں کریں۔دعائیں کریں اور بہت دعائیں کریں۔جس کو بھی موقعہ ملے خانہ کعبہ میں جا کر اور مسجد نبوی میں جا کر مسیح موعود کے مقصد کے پورا ہونے کے لئے روئیں اور چلا ئیں۔مجھے خوشی ہے کہ عربوں میں سے ایک طبقہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا پیغام پہنچانے کے لئے مصروف ہے اور اس کا حق ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔اس کام میں کبھی روک نہ پڑنے دیں کبھی ست نہ ہوں۔اللہ تعالیٰ کی تائیدات بھی آپ کے ساتھ ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت کے نشان کے طور پر عرب ممالک میں رہنے والے احمدی جانتے ہیں کہ ایم ٹی اے العربیہ کے مختلف چینل کا چلنا اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ کا دعویٰ سچا ہے جو اللہ تعالیٰ نے نامساعد حالات کے باوجود اس چینل کو جاری رکھا ہوا ہے۔نَحْنُ اَنْصَار اللہ کا جو نعرہ آپ نے لگایا ہے اُسے کبھی مرنے نہ دیں۔اللہ تعالیٰ نے اس زمانے کی ایجادات کو بھی ہمارے لئے زیر کر دیا ہے۔ان سے بھر پور فائدہ اٹھاتے چلے جائیں۔اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ہو۔اللہ تعالیٰ ہم سب کے ساتھ ہو۔اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی ذمہ داریاں احسن رنگ میں نبھانے کی توفیق دیتا چلا جائے۔آمین۔“ (خطاب فرمودہ 26 جولائی 2009 ء جلسہ سالانہ برطانیہ ) لبیک لبیک کی صدائیں اور حسن انصار اللہ کا نعرہ یہاں یہ ذکر کرنا مناسب ہوگا کہ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ان پر تاثیر کلمات نے جلسہ میں بیٹھے ہوئے عربوں کے دلوں کو چھو لیا اور ان میں سے بعض بے اختیار ہو کر دوران خطاب ہی اٹھ کھڑے ہو کر نہائیت والہانہ انداز میں لبیک لبیک اور نحن انصار اللہ اور نعرہ ہائے تکبیر بلند کرنے لگے۔شروع میں مکرم ایا د عودہ صاحب آف جرمنی کھڑے ہوئے بعد میں انکے کزن فؤاد عودہ صاحب اور پھر ایاد صاحب کے بھائی مراد عودہ صاحب نے کھڑے ہو کر