مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 542 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 542

514 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم تمام وہ احمدی جن کو اللہ تعالیٰ نے اس زمانے کے امام کو ماننے کی توفیق عطا فرمائی ہے، تمام وہ عرب احمدی جنہوں نے اپنے عرب ہونے کو بڑائی کا ذریعہ نہیں بنایا بلکہ امام الزمان کی آواز کوسن کر سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا کا نمونہ دکھایا ہے یا درکھیں کہ ایک احمدی اور حقیقی مسلمان کا ہر نیا دن اس کے ایمان اور تقویٰ میں ترقی کا دن ہونا چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ ہر دن اگر تمہارے اندر ترقی نہیں ہو رہی تو توجہ کرو اور غور کرو اور جائزےلواور اس ترقی کے حصول کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ان الفاظ کو ہمیشہ یادرکھیں کہ ہم نے ڈرتے ڈرتے دن بسر کیا اور تقویٰ سے رات بسر کی۔اور یہ تقویٰ میں ترقی ہی ہے جو ان جلسوں کا مقصد ہے۔پس اس عہد کے ساتھ یہاں سے واپس جائیں کہ ہم نے پاک تبدیلیاں اپنے اندر پیدا کرنی ہیں ان کو زندگیوں کا حصہ بناتا ہے اور تقویٰ میں ترقی کرنی ہے ہے۔اور اس کے حصول کے لئے جلسے کے یہ جو دن ہیں یہاں گزاریں۔ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ ہماری ترقی تبلیغ کے ساتھ دعاؤں سے اور اللہ تعالیٰ کی مدد سے ہی وابستہ ہے۔پس دعاؤں کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنالیں۔دعاؤں پر زور دیں اور خالص ہو کر اللہ تعالیٰ کے آگے جھکیں۔تو آپ کی دعائیں آسمانوں میں ارتعاش پیدا کر کے وہ انقلاب لائیں گی جو اسلام اور مسلمانوں کے ہر مخالف کو حضرت محمد رسول اللہ ا کے قدموں میں لا ڈالے گی۔ہمیشہ یاد رکھیں کہ مسیح و مہدی کا زمانہ تیر و تفنگ کا زمانہ نہیں ہے۔بلکہ دعاؤں انقلاب لانے کا زمانہ ہے اور یہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ يَضَعُ الحَرْب (صحیح) بخاری، کتاب احادیث الانبیاء باب نزول عیسی بن مریم۔مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی) سے ہم پر ثابت ہے۔اللہ تعالیٰ نے عربوں کو تبلیغ اور تقریر کا خاص ملکہ عطا فرمایا ہوا ہے اگر اپنے پاک نمونوں اور دعاؤں سے اسے سجاتے ہوئے استعمال میں لائیں گے تو اللہ تعالیٰ کے وسیع تر فضلوں کی بارش اپنے پر برستی دیکھیں گے اور احمدیت یعنی حقیقی اسلام کو عرب دنیا میں پھلتا پھولتا دیکھیں گے۔پس آج یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم عیسائیوں کی بھی حقیقی نجات کا باعث بنیں اور یہودیوں کو بھی ان کی تاریخ اور تعلیم کے حوالے سے صحیح راستے دکھانے کی کوشش کریں۔ان کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں لانے کی کوشش کرتے ہوئے ان کی بھلائی کے سامان کریں اور دوسرے مذاہب والوں کو اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے راستے دکھائیں اور خدا تعالیٰ