مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 522
مصالح العرب۔جلد دوم ہورہی تھی۔494 انہی دنوں میں 22 / مارچ 2005ء کو دوران ملاقات حضور انور نے مکرم عبد المومن طاہر صاحب کو فر مایا کہ محمد شریف عودہ صاحب سے کہیں کہ ”الفرقان الحق“ نامی اس کتاب کے بارہ میں عربوں کو ہلائیں۔ازھر والوں کو یہ کتاب دیں اور انہیں کہیں کہ اس کتاب کا آپ جواب کیوں نہیں دیتے؟ ان کی کوشش ہے کہ اسے اسلامی دنیا میں پڑھایا جائے اور اس کے ذریعہ مسلمانوں کا Brain wash کیا جائے۔ان کا ارادہ ہے کہ عیسائیت کو مسلمانوں کے افکار میں Mix کیا جائے ، جیسا کہ ان کی عادت ہے کہ ہر جگہ عیسائیت کا مقامی برانڈ ہوتا ہے،مشرق میں اور عیسائیت اور مغرب میں اور۔کیونکہ یہ لوگ مقامی Traditions کو بھی دین میں Mix کر لیتے ہیں۔چنانچہ محمد شریف صاحب کو حضور انور کا یہ ارشاد پہنچایا گیا جس پر عمل کرنے کے بعد مکرم شریف صاحب نے 24 اپریل 2005 ء کو اپنے ایک خط میں رپورٹ دی کہ انہوں نے ازہر والوں کو جماعت کے تعارف پر مشتمل کتاب دی اور ساتھ ”الفرقان الحق کا جواب دینے کے بارہ میں بھی کہا تو از ہر والوں نے کہا کہ ہمارا یہ تقریباً متفقہ فیصلہ ہے کہ ہم نہ تو اس کتاب کا ، نہ ہی تو عیسائیوں کے دیگر حملوں کا جواب دیں گے۔ہم تفصیل اس کے سبب کا ذکر کر آئے ہیں اور وہ ہے مصر میں عیسائیوں اور مسلمانوں کے درمیان امن کی فضا قائم رکھنے کی خاطر بنایا ہوا قانون، جسے دونوں فریق ایک دوسرے کے خلاف عدالت میں استعمال کرتے رہے ہیں۔اور چونکہ یہ حملے مصر کے باہر کے عیسائیوں کی طرف سے تھے اس لئے گویا مصری عیسائیوں کا اس میں کوئی قصور نہ تھا اور ان حملوں کا جواب دینا گویا مصری عیسائیوں کے جذبات کو مجروح کرنے کے مترادف ٹھہرنے کا خدشہ تھا اور ایسی صورت میں مذکورہ قانون کی زد میں آنے کا امکان تھا۔لہذا الا زہر نے نہ عیسائی حملہ کا جواب دیا نہ اس ” الفرقان الحق“ نامی جھوٹ کے پلندے کا رڈ لکھا۔الازہر کے مذکورہ جواب پر حضور انور نے فرمایا: اگر ان کا یہی فیصلہ ہے تو ہم اس پر إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا لَيْهِ رَاجِعُوْنَ“ کے سوا اور کیا کہہ سکتے ہیں۔اللہ ان کو ہدایت دے اور انہیں غفلت کی نیند سے جگائے۔“