مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 17 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 17

مصالح العرب۔جلد دوم 13 مبلغین بلاد عربیه بلاد عربیہ میں مبلغین کرام کی خدمات کے سلسلہ میں ہم حضرت زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب، مولانا جلال الدین شمس صاحب، مولانا ابوالعطاء جالندھری صاحب، مولانا محمد صاحب، مولانا محمد شریف صاحب، مولانا رشید احمد چغتائی صاحب، اور مولانا نوراحمد منیر صاحب کا ذکر ان کے کار ہائے نمایاں کے ساتھ مفصل طور پر کر آئے ہیں۔یہاں پر دیگر مبلغین کرام کا ذکر خیر بھی کر دیا جائے جن کو بلا د عربیہ میں خدمات کی توفیق ملی۔اس کے بعد ہم تاریخی اعتبار سے باقی احداث و واقعات کا تذکرہ کریں گے۔مکرم مولا نا محمد دین صاحب 1940ء میں مکرم مولوی محمد دین صاحب بطور مبلغ البانیہ گئے اور آپ نے کچھ عرصہ وہاں پر قیام کیا۔مصر میں ایک مختصر سی جماعت قائم تھی۔وہاں پر کوئی مبلغ نہیں تھا لیکن مکرم چوہدری محمد شریف صاحب جن کا ہیڈ کوارٹر حیفا میں تھا تمام بلاد عربیہ میں مشن کے انچارج تھے۔1944ء میں آپ مصر کی جماعت کی خواہش پر وہاں تربیتی دورے پر گئے۔آپ وہاں پر تقریباً دو ماہ مقیم رہے اور جماعت کے عہدیداروں کا انتخاب کرایا اور جماعت کے ساتھ تربیتی نشستیں ہوئیں۔اس موقع پر چند احباب بیعت کر کے سلسلہ میں داخل ہوئے۔اس موقع پر ایک بلند پایہ از ہری عالم سے آپ کا مناظرہ بھی ہوا۔پہلے تو یہ صاحب مُصر ہوئے کہ وہ وفات مسیح کی بجائے ختم نبوت پر مناظرہ کریں گے۔جب دلائل کا تبادلہ ہوا تو جلد ہی عاجز آگئے۔اور نہ صرف اقرار کیا بلکہ لکھ کر بھی دیا کہ عقلی طور پر اس آیت سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ آئندہ بھی نبی آسکتے ہیں۔اُس کی