مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 419
مصالح العرب۔جلد دوم 395 الْحِوَارُ الْمُباشر جب حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مکرم مصطفیٰ ثابت صاحب کے تیار کردہ پروگرامز أَخْوِبَة عَنِ الْاِیمان کو ایم ٹی اے پر چلانے کا ارشادفرمایا تو کچھ ہی دنوں میں اعتراضات کی چھریوں سے گھائل غیور مسلمانوں کے زخم بھرنے لگے اور ایسے پروگرامز کو بڑھانے کے مطالبے آنے شروع ہوئے۔مثال کے طور پر مصر کے ایک غیر از جماعت دوست مکرم ناصر علی صالح البرکاتی نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت میں لکھا: اللہ تعالی آپ کو بہترین جزاء عطا فرمائے کہ آپ نے اسلام اور مسلمانوں کی خدمت اور دفاع کا حق ادا کیا ہے اور عیسائی ضَالین اور مَغْضُوبِ عَلَيْهِم اور صَابِئِین کے جواب میں ہمارے پیارے دین کی صحیح وضاحت کی ہے۔براہ مہربانی مزید ایسے پروگرام پیش کریں اور ایم ٹی اے پر کچھ مزید گھنٹے اس کام کے لئے مخصوص کر دیں۔یہ کام جلدی کر دیں تا اسلام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی دنیا پر ثابت ہو سکے۔“ کچھ عرصہ کے بعد ہی لائیو عربی پروگرامز شروع ہو گئے ، اور ابتدائی چند پروگرامز کے بعد ہی حضور انور کے حسب ہدایت و راہنمائی رد عیسائیت کا موضوع چنا گیا جو بہت دیر تک جاری رہا۔بعد میں اس پروگرام میں دیگر بہت سے دینی مسائل اور موضوعات بھی زیر بحث لائے گئے اور تاحال یہ سلسلہ جاری ہے۔آئیے تاریخی اور واقعاتی لحاظ سے اس لائیو پروگرام کے بارہ میں کسی قدر تفصیل سے بات کرتے ہیں۔