مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 395 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 395

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم 371 الا زہر کے لئے وثیقہ کی تیاری 2004 ء کے آخر میں جماعت احمد یہ کہا بیر کے ایک قدیم مخلص احمدی مکرم ابراہیم اسعد عودہ صاحب کو مصر کے شہر اسکندریہ میں کسی موضوع پر لیکچر کے لئے بلایا گیا۔انہوں نے وہاں پر شيخ الأزهر محمد سید الطنطاوی سے ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا تو منتظمین نے اس ملاقات کا انتظام کر دیا۔شیخ الازہر سے ملاقات کے دوران ابراہیم اسعد عودہ صاحب نے انہیں جماعت کا تعارف کروایا اور ان سے کہا کہ اگر آپ پسند فرمائیں تو مختلف استفسارات کے جوابات دینے اور اپنے عقائد کے بارہ میں غلط فہمیوں کے ازالہ کے لئے جماعت کا ایک وفد بھی آپ کے پاس بھیجا جاسکتا ہے۔شیخ الازہر نے رضامندی کا اظہار کیا۔چنانچہ حضور انور سے اجازت اور راہنمائی میں ایک وفد تشکیل دیا گیا جو مندرجہ ذیل افراد پر مشتمل تھا: مکرم محمد شریف عوده و صاحب ( رئیس الوفد ) مکرم عبد الله اسعد عوده صاحب، مکرم ابراہیم اسعد عوده صاحب از کہا بیر اور مکرم محمد منیر ادبی صاحب از شام اس وفد نے فروری 2005ء میں مصر میں شیخ الازہر سے ملاقات کی۔انہوں نے بڑی گرمجوشی سے اس وفد کا استقبال کیا اور بلاوجہ تکفیر کے فتاوی صادر کرنے کی بیماری کی سخت مذمت کی۔اس کے بعد انہوں نے اس وفد کو مجمع البحوث کے سر براہ شیخ فوزی زفزاف کے ساتھ ملنے کو کہا جنہوں نے یہ وعدہ کیا کہ اگر آپ ہمیں جماعت کی کتب فراہم کریں تو ہم نئے سرے سے پڑھ کر کسی نتیجہ پر پہنچ سکتے ہیں۔چنانچہ انہیں کچھ کتب بھی مہیا کردیں۔اس دفعہ بھی انکی طرف سے بہت گرمجوشی سے استقبال کیا گیا اور بڑی آؤ بھگت کی گئی۔مکرم شریف عودہ صاحب بیان کرتے ہیں کہ ہم شیخ فوزی زفزاف کے گھر کے برآمدے میں بیٹھے تھے جب انہوں نے کہا: آج جماعت احمدیہ کے علاوہ اسلام کی خدمت کرنے والی کوئی