مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 11
مصالح العرب۔۔۔۔۔۔جلد دوم 11 صاحب۔ابوالولید شہاب الدین اور چوہدری مشتاق احمد صاحب باجوہ شامل تھے۔حضور کا قافلہ تقریباً ڈیڑھ بجے عالیہ پہنچا۔ان کے ہمراہ بیروت میں مکرم محمد در جنانی صاحب کے مکان پر پہنچے جہاں حضور کے ٹھہرانے کا انتظام کیا گیا تھا۔حضور کی پیشوائی اور ملاقات کے لئے لبنان کے احمدی دوست طرابلس اور بر جا سے معہ بچوں کے آئے ہوئے تھے جو نہی حضور کی کار دروازہ پر پہنچی دوستوں نے کہنا شروع کر دیا جاء مولانا الخلیفہ اور دوستوں نے حضور کو اھلا و سھلا ومرحبا کہا۔حضور کی آمد ان ممالک میں غیر متوقع تھی اس لئے دوستوں کو حضور کی ملاقات سے انتہائی خوشی تھی اور سب دوست حضور کی صحت عاجلہ اور عمر طویل کے لئے دعا گو تھے۔ڈاکٹری ہدایت کے پیش نظر حضور نے آتے ہی آرام فرمایا اور سو گئے۔چائے نوشی کے بعد حضور ظہر اور عصر کی نمازیں پڑھانے کے لئے تشریف لائے دوستوں نے حضور کی اقتدا میں نماز پڑھی۔نماز کے بعد حضور نے بعض مقامی امور کے متعلق استفسار فرمایا اور شیخ نور احمد صاحب منیر نے لبنان کے جملہ احباب کا تعارف حضور سے کرایا۔تمام دوستوں نے حضور سے مصافحہ کیا۔سیکرٹری محمد توفیق الصفدی صاحب نے ایک مختصر ایڈریس حضور کی خدمت مبارک میں پیش کیا جس میں حضور کی آمد پر جماعت نے اپنے آقا کو مرحبا کہا تھا۔اور اپنے جذبات عقیدت کا اظہار کیا اور حضور کی کامل شفاء کے لئے دعا کی۔السید محمد توفیق الصفدی کے بعد السید نجم الدین نے بھی ایک قصیدہ پیش کیا۔ازاں بعد حضرت مصلح موعودؓ نے الشیخ عبد الرحمن البرجاوی کی درخواست پر جماعت احمدیہ برجا کی مرکزی عمارت کے لئے بنیادی پتھر پر ہاتھ اٹھا کر دعا کی۔برجا کے علاوہ طرابلس الشام سے بھی محمود ابراہیم صاحب اپنے بچوں کے ہمراہ آئے ہوئے تھے۔حضور ان کے حالات دریافت فرماتے رہے۔یہ مختصر مجلس برخاست ہوئی تو دوستوں نے دوبارہ مصافحہ کیا اور پھر حضور ساحلِ سمندر کی طرف تشریف لے گئے اور نئے بیروت کے بعض حصوں کو دیکھا۔اس وقت چوہدری مشتاق احمد صاحب باجوہ اور مکرم توفیق محمد الصفدی صاحب کو حضور کی کار میں بیٹھنے کی سعادت نصیب ہوئی۔حضور لبنان میں سلسلہ کی ترقی کے لئے بعض امور پر تبصرہ فرماتے رہے۔مغرب کی اذان ہو چکی تھی حضور سیر سے واپس تشریف لائے۔