مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 373
مصالح العرب۔جلد دوم 349 عربوں میں جماعت احمدیہ کی تبلیغ کے سفر میں چلتے چلتے اب ہم خلافت خامسہ کے مبارک عہد میں آپہنچے ہیں۔وہ عہد جس میں اللہ تعالیٰ نے اپنی خاص تقدیر کے تحت عرب ممالک میں تبلیغ اور احمدیت کے پھیلاؤ کے لئے نئے آسمانی ابواب کھول دیئے ہیں، اور آج حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہام : يدعُونَ لَكَ أبْدَال الشَّام وعِباد الله مِنَ الْعَرَب ( یعنی تیرے لئے ابدال شام کے دعا کرتے ہیں اور بندے خدا کے عرب میں سے دعا کرتے ہیں ) اور يُصَلُّونَ عَلَيْكَ صُلَحَاءِ الْعَرَب وَأَبْدَالُ الشَّام ( یعنی صلحائے عرب اور ابدال شام تجھ پر درود بھیجتے ہیں ) عجیب شان سے پورے ہورہے ہیں۔تقدیر الہی اور میعاد مقرر مکرم منیر عودہ صاحب بیان کرتے ہیں کہ حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ نے ایک دفعہ عربوں کے لئے عربی زبان میں خطاب ریکارڈ کروانے کا بھی ارادہ فرمایا۔لیکن پھر یہ ارشاد فرمایا کہ: میرا خیال ہے کہ ابھی اس کا وقت نہیں آیا۔دوسری طرف جب حضرت خلیفہ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کو اللہ تعالیٰ نے خلعت خلافت سے سرفراز فرمایا تو حضور انور نے فرمایا کہ میرے عہد میں عربوں میں تبلیغ کے لئے راہ کھلے گی اور عربوں میں احمدیت کا نفوذ ہوگا۔یہ خدا تعالیٰ کی قدرتوں کے عجیب رنگ ہیں کہ اس نے ہر کام کے لئے ایک وقت مقرر فرمایا ہوا ہے۔اور وہ باتیں جو اس مقررہ وقت سے پہلے ناممکنات کی طرح نظر آتی ہیں وقت آنے پر اس طرح آسان ہو جاتی ہیں جیسے ہر چیز اس کی انجام دہی کے لئے مسخر کر دی گئی ہو۔چنانچہ حضرت خلیفہ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے عہد مبارک کے اب تک کے تقریبا پونے آٹھ سال کے دوران صرف عربوں میں تبلیغ کے حوالہ سے خدا تعالیٰ کی تقدیر کے