مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 9
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم اور آج آپ کے وجود سے یہ الہام پورا ہو گیا ہے۔نماز جمعہ کے بعد حضور کچھ وقت مجلس میں رونق افروز رہے۔سید محمد ذکی صاحب نے تلاوت قرآن کریم کی۔السید محمد الربانی نے حضرت مسیح موعود کا عربی قصیدہ پڑھا اور پھر السید ابراہیم الجبان نے حضرت مصلح موعودؓ کی شان مبارک میں ایک شاندار قصیدہ پڑھا جو ان کی قلبی واردات کا آئینہ دار اور اخلاص کا مرقع تھا۔اس یاد گار تقریب کے کئی فوٹو لئے گئے اور دعا پر یہ تقریب ختم ہوئی۔1924 ء اور 1955ء کے دمشق کا موازنہ حضرت مصلح موعود 1924ء میں بھی نزیل دمشق ہوئے تھے مگر اکتیس سال قبل کے دمشق اور موجودہ دمشق میں ایک بھاری فرق تھا۔1924ء میں یہاں کوئی دمشقی احمدی نہ تھا اور حالات اس درجہ مخالف تھے کہ دمشقی عالم الشیخ عبد القادر المغربی نے حضور سے کہا آپ یہ امید نہ رکھیں کہ ان علاقوں میں کوئی شخص آپ کے خیالات سے متاثر ہوگا کیونکہ ہم لوگ عرب نسل کے ہیں اور عربی ہماری مادری زبان ہے اور کوئی ہندی خواہ وہ کیسا ہی عالم ہو ہم سے زیادہ قرآن و حدیث کے معنی سمجھنے کی اہلیت نہیں رکھتا۔اولو العزم فضل عمر اس چیلنج پر خاموش نہ رہ سکے اور فرمایا ”اب ہندوستان واپس جانے پر میرا پہلا کام یہ ہوگا کہ آپ کے ملک میں مبلغ روانہ کروں۔اور دیکھوں خدائی جھنڈے کے علمبرداروں کے سامنے آپ کا کیا دم خم ہے۔تاریخ احمدیت جلد پنجم صفحہ 413-414) اللہ اللہ کس تو کل علی اللہ اور کس عزم کا اظہار تھا جس نے خدا کے فضلوں کو ایسی تیزی سے جذب کیا کہ اب جو اکتیس سال کے بعد وہی اولوالعزم اور متوکل اور مسیح محمدی کا لخت جگر اور پسر موعود دمشق میں وارد ہوا تو مخلصین احمدیت کی ایک بیمثال جماعت قائم ہو چکی تھی۔اور حضور کے عاشق خدام اس کی ایک جھلک دیکھنے کے لئے اس کے ہاتھ کو بوسہ دینے کے لئے اور اس کے روح پرور کلمات سننے کے لئے اور اس کی اقتدا میں نماز ادا کرنے کے لئے بے تاب نظر آتے تھے اور اس سے تعارف کا فخر حاصل کرنے اور اس کی دعاؤں کے حصول کیلئے تڑپتے تھے۔اور خدا کے اس موعود خلیفہ کے در کی پاسبانی کے لئے فخر وعزت محسوس کر رہے تھے۔(الفضل 15 مئی 1955 صفحہ 3) 6