مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 327
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم 307 صلی اللہ علیہ وسلم نے عبادتیں کی ہیں۔پس آج ان عبادتوں کو زندہ کرنے والے ہم تیرے عاجز غلام ہیں، اُس شان کے ساتھ نہیں مگر جس حد تک بھی توفیق پاتے ہیں ہم ان عبادتوں کو اسی طرح زندہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔پس اے ہمارے معبود ! ہماری عبادتوں کو قبول فرما اور ہماری مدد فرما اور آج اگر تو نے عبادت کرنے والوں کی مدد نہ کی تو دنیا سے عبادت اٹھ جائے گی اور دنیا سے عبادت کا ذوق اٹھ جائے گا۔پس تو ہماری التجاؤں کو قبول فرما۔إِيَّاكَ نَعْبُدُ ہم صرف تیری عبادت کرتے ہیں ، دنیا کی قوم کی طرف نہیں دیکھ رہے تیری طرف دیکھ رہے ہیں، تیرے حضور جھک رہے ہیں، تو مدد فرما۔اگر ہماری یہ دعا قبول ہو جائے اور اگر دل کی گہرائیوں سے اٹھے اور تمام دنیا سے احمدی یہ دعائیں کر رہے ہیں تو ہر گز بعید نہیں کہ یہ دعا قبول ہو جائے تو پھر آپ دیکھیں گے کہ انشاء اللہ Ball کسی اور کی کورٹ میں نہیں رہے گا ، Ball تقدیر الہی کی کورٹ کی طرف واپس چلا جائے گا۔اور آپ کی دعائیں ہیں جن کا ہاتھ تقدیر الہی پر پڑتا ہے یا جن کا ہاتھ تقدیر الہی کے قدموں کو چھوتا ہے اور پھر تقدیر الہی آپ کی دعاؤں کے ساتھ ساتھ رنگ بدلتی چلی جاتی ہے۔اب دنیا کو یہ بدلتے ہوئے رنگ دکھا دیں اور دنیا کو بتا دیں کہ خدا آپ کا ہے اور آپ جس کے ساتھ ہیں خدا اس کے ساتھ ہوگا۔( خطبه جمعه فرموده 11 جنوری 1991ء) روح کا آستانہ الوہیت پر پگھلنا شرط ہے خطبہ الہامیہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلاۃ والسلام یہ لکھتے ہیں کہ یہ مقدر تھا اور ہے کہ ایسا ضرور ہوگا۔آپ فرماتے ہیں کہ جب مسیح کی روح آستانہ الوہیت میں پچھلے گی اور راتوں کی اس کے سینے سے درد ناک آواز میں اٹھیں گی تو خدا کی قسم دنیا کی بڑی بڑی طاقتیں اس طرح پگھلنے لگیں گی جیسے برف دھوپ میں پچھلتی ہے اور اس طرح ان طاقتوں کے ہلاک ہونے کے دن آئیں گے اور ان کے تکبر کے ٹوٹنے کے دن آئیں گے۔مسیح موعود علیہ الصلاۃ والسلام تو آج نہیں لیکن مسیح موعود علیہ الصلاۃ والسلام کی روح جماعت احمدیہ میں زندہ ہے۔پس اے مسیح موعود کی روح کو اپنے سینے میں لئے ہوئے احمد یو! خدا کے حضور راتوں کو اٹھو اور اس طرح پگھلوا اور دردناک کراہ کے ساتھ اور دردناک چیخوں اور سسکیوں کے ساتھ خدا کے حضور گریہ وزاری کرو، اور یقین رکھو کہ جب تمہاری روحیں اسکے