مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 568
540 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول وعثمان النقى قتيل بیت كذاك على اتقى الاتقياء تأسی فيهم ابن المعالي ولا تنس شهید الكربلاء عليك سلام كل حين قط سلام ما به رياء ترجمه اے امیر المومنین ! میری جان آپ پر فدا ہو اور جان سے بڑھ کر کیا فدیہ ہوگا ؟ ایک شریر ، سرکش اور غیر مہذب شخص نے اپنی حرکت سے آپ کو جو نقصان پہنچایا ہے ، مجھے اس کا علم ہوا۔اللہ تعالیٰ آپ کو اس زخم سے شفا بخشے جس کی وجہ سے میرے دل میں ایسا درد ہے، جس کا کوئی علاج نہیں۔اے امام ! جماعت احمد یہ آپ پر قربان۔اسے امیر! میری جان آپ پر شار۔اے امام ! اللہ تعالیٰ آپ کو ان زخموں سے جلد شفا بخشے۔جنہوں نے میرے سینہ میں مستقل زخم ڈال دیئے ہیں اور مجھے بیمار کر دیا ہے۔جب ہمارا آقا خیر و عافیت سے ہو تو ہمیں ساری دنیا کی بادشاہت ملنے کے برابر خوشی ہوتی ہے۔اے مثیل عمر! تیرے زخم سے حضرت عمر کی یاد تازہ ہو گئی جب ایک کمینے نے آپ پر وار کیا اور امید حیات جاتی رہی۔اور ایسا ہی حضرت عثمان کی یاد تازہ ہو گئی جو بے گناہ تھے اور گھر کے اندر شہید کئے گئے۔نیز حضرت علی اتقی الاتقیاء بھی یاد آگئے۔اے جلیل القدر امام! ان بزرگوں کے مصائب ہمارے لئے اسوہ ہیں اور اس سلسلہ میں شہید کر بلا حضرت امام حسین کو کون بھلا سکتا ہے۔اے سرمایہ حیات ! اور اے ذخیرہ آخرت! تجھ پر ہر گھڑی خدا تعالیٰ کا سلام۔تجھ پر ہر گھڑی بنی نوع انسان کا مخلصانہ سلام۔از تاریخ احمدیت جلد 16 صفحہ 242-246) 00000