مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 551
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول ہے۔الرجل الذى يمسك بيده غصن الزيتون ويطير به بين أطباق السحاب ---- إنه رجل خير، تبرع بأكثر من ثلث دخله الخاص للإنفاق على الجمعيات الخيرية فى الباكستان، وشهد له أعضاء هيئة الأمم بحرصه على أداء فروض الصلاة بانتظام وفى ومواعيدها، حتى لقد حدث أن أزف وقت الصلاة مرة ولم يتمكن من الذهاب إلى منزله لأدائها بسبب استمرار اجتماع الهيئة، فدخل "كشك التليفون“ ووقف يقيم الصلاة __! وقد عُرف ”ظفر الله خان بأنه لا يبارى في عرض الحجج والبراهين وسرد الحقائق، وإذا تكلم أو خطب ارتجالا بلغ الذروة، وقد ضرب الرقم القياسى فى الخطابة بمجلس الأمن إذا استمر يخطب ست ساعات كاملة دون توقف!۔۔۔۔525 (المصور المصرية، العدد الصادر في ۲۹ فبراير ١٩٥٢م ص ١٠ نقلا عن مجلة البشرى المجلد ١٨ نيسان أيار ١٩٥٢م ص ٥٦ إلى (٥٩ آپ ہی وہ شخصیت ہیں جو پیام امن لے کر بادلوں کے درمیان اڑتی پھرتی ہے۔آپ ایک نیک اور ہمدرد آدمی ہیں ، آپ نے اپنی تنخواہ کا تیسرا حصہ پاکستان میں انسانی بھلائی کی تنظیموں کے لئے وقف کر رکھا ہے۔اور اقوام متحدہ کے ممبران اس بات کے گواہ ہیں کہ آپ اپنی فرض نمازیں ان کے اوقات پر ادا کرنے کے پابند ہیں۔یہاں تک کہ ایک دفعہ ایک اجلاس کے جاری رہنے کی وجہ سے آپ گھر میں جا کر نماز ادا نہ کر سکے چنانچہ آپ نے قریبی ٹیلیفون کے بوتھ میں داخل ہو کر کھڑے ہو کر ہی نماز ادا کر لی۔ظفر اللہ خان کے بارہ میں مشہور ہے کہ دلائل و براہین کے بیان اور حقائق کے تذکرہ میں آپ کا کوئی ثانی نہیں ہے۔جب بھی آپ بولتے ہیں یا زبانی خطاب فرماتے ہیں تو آپ کی گفتگو نہایت اعلیٰ درجہ کی ہوتی ہے۔آپ نے سلامتی کونسل میں چھ گھنٹے مسلسل خطاب کرنے کا ریکارڈ بھی قائم کیا ہے۔