مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 542 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 542

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 516 ڈنڈے کے زور پر صداقت دبا نہیں کرتی وسط 1948ء میں ایک عرب نے جو اہل مدینہ کے نام سے موسوم تھا لیگوس میں احمدیت کے خلاف زہر اگلا اور مبلغ انچارج نائیجیریا مولوی نور محمد صاحب نسیم سیفی کو لکھا اگر تم کسی اسلامی ملک میں ہوتے تو تمہارا سر قلم کر دیا جاتا۔جناب سیفی صاحب نے حضرت مصلح موعود کی خدمت میں اس کی اطلاع دی تو حضور نے تحریر فرمایا کہ: اس بات پر زور دیں کہ عرب ممالک کی کوشش تو سر ظفر اللہ احمدی کو خاص طور پر اپنا نمائندہ مقرر کرنے کی ہے اور ابن سعود کے صاحبزادے ان کو دعوتیں دیتے ہیں۔شام کی حکومت ان کو سب سے بڑا تمغہ دیتی ہے اور اب بھی ان کو خاص طور پر شام بلوایا گیا ہے اور تم کہتے ہو اسلامی حکومت ہوتی تو تم کو مارا جاتا۔لیکن فرض کرو کہ مارا جاتا تو کیا مکہ میں صحابہ کو مارا نہیں جاتا تھا۔مارا جانا تو اس امر کی علامت ہے کہ دلائل ختم ہو چکے اب ڈنڈے کے زور سے صداقت کا مقابلہ کیا جائے گا۔مگر اس طرح صداقت نہیں دیا کرتی۔اہل مدینہ نے جناب نسیم سیفی صاحب کو عربی میں مناظرہ کا چیلنج دیا تھا جو جناب نسیم سیفی صاحب نے منظور بھی کر لیا تھا مگر وہ صاحب پہلو تہی کرتے رہے اور مباحثہ کئے بغیر واپس چل دیئے۔تاریخ احمدیت جلد 12 صفحہ 134-135 )