مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 519
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 495 تھے اور باقی دیگر غیر ملکی تھے اور یہ اس علاقہ کا حال تھا جہاں نومبر 1947 ء میں ساڑھے چار لاکھ عرب رہتے تھے !!! گزشتہ حکومت نے مارچ 1948ء میں سلسلہ آمد ورفت ورسل ورسائل بند کر دیا تھا۔ریلیں بند کر دی تھیں اور سب لوگوں کو سوائے یہودیوں کے جنہوں نے گزشتہ حکومت میں ایک یہودی حکومت بنارکھی تھی ) اپنے اپنے علاقوں اور گھروں میں محصور کر دیا تھا۔15 رمئی سے جب یہودیوں نے حکومت اسرائیل قائم کرنا شروع کردی، غیر یہودیوں کو اپنی اپنے جائے رہائش میں بند رکھا اور ان پر ملٹری رول نافذ کر دیا۔اپنے جائے رہائش سے دوسری جگہ جانے کے لئے ملٹری پرمٹ لینے کا حکم دے دیا۔پرمٹ دو باتوں کے لئے بعد تحقیقات ملتا تھا۔کوئی دوسری جگہ ملازمت یا مزدوری کرتا ہو یا قریب ترین خونی رشتہ دار کی ملاقات کے لئے۔23 / اپریل 1948ء کو یہودیوں نے حیفا پر بھی قبضہ کر لیا اور 24 اور 25 / اپریل کو ملحقات حیف پر بھی تسلط قائم کر لیا۔چنانچہ جبل کرمل پر واقع عرب آبادی کہا بیر بھی ان کے قبضہ میں آگئی۔صبح ہوتے ہی چاروں اطراف سے مسلح فوجوں نے محاصرہ کر لیا اور اہل کہا بیر کے سامنے دوشرطیں پیش ہوئیں۔ہجرت کرنا چاہیں تو ہتھیار وغیرہ دے کر ہجرت کر جائیں۔یہاں کی رہنا چاہیں تو ہتھیار وغیرہ اور جس قدر سپاہی آپ کے پاس مقیم ہوں وہ ہمارے سپرد کر دیں۔اہل کہا بیر نے اپنے گھر بار اور وطن کو چھوڑ کر جانا گوارا نہ کیا بلکہ ارشاد نبوی مَنْ قُتِلَ دُوْنَ مَالِهِ وَ عَرْضهِ فَهُوَ شَهِيدٌ ( جو اپنے مال اور عزت کی حفاظت کرتے ہوئے مارا جائے وہ بھی شہید ہے) پر عمل کرنے کا عزم کر لیا۔چونکہ اہل کہا بیر کے پاس کوئی سپاہی پناہ کیلئے آیا نہ تھا لہذا مغرب تک گوشہ گوشہ کی تلاش و تفتیش کر کے کلیئر قرار دیئے گئے۔15/ اگست 1948 ء سے جون 1949 ء تک سارے اسرائیل میں صرف ہماری مسجد سید نامحمود سے ہی پانچ وقت اذان بلند ہوتی رہی۔باقی سب مساجد مہجور ہوگئیں۔1947ء میں جس قدر عربی اخبارات و رسائل اس ملک میں شائع ہوتے تھے اب ان میں سے صرف ہمارا رسالہ (البشری ) ہی تھا جو جاری رہا۔اگر چہ پہلے بھی سارے فلسطین میں سے کوئی بھی اسلامی دینی رسالہ شائع نہیں ہوتا تھا مگر اب تو ہر قسم کے رسائل و اخبارات و کتب پر بھی قیامت برپا ہو چکی تھی۔(ماخوز از تاریخ احمدیت جلد 12 صفحہ 129 تا 131 )