مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 447
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 425 ہوا ہے جو کہ انہوں نے فلسطین میں نام نہاد صیہونی حکومت کے قیام کے سلسلہ میں دیا ہے آپ اس خطبہ میں فرماتے ہیں یہ عجیب بات ہے کہ ایک ہی وقت میں فلسطین اور کشمیر کے جھگڑے فا شروع ہیں۔اور یہ بھی عجیب تر بات ہے کہ کشمیر اور فلسطین ایک ہی قوم سے آباد ہیں اور اس قوم کا ایک حصہ مسلمان ہو کر آج کشمیر میں مسلمانوں کی ہمدردی کھینچ رہا ہے اور دوسرا حصہ فلسطین میں مسلمانوں کے ساتھ زندگی اور موت کی جنگ میں ٹکر لے رہا ہے۔آدھی قوم اسلام کے لئے قربانیاں پیش کر رہی ہے اور آدھی قوم اسلام کو مٹانے کے لئے کوشاں ہے۔کشمیر کی جنگ میں " کا شتر یعنی کشمیر کا نام سننے میں آتا ہے اور فلسطین کی جنگ میں بھی ” کا شہر شہر کا ذکر بار بار آ رہا ہے۔اس کا شر کے نام پر کشمیر کا نام ” کا شر“ رکھا گیا تھا جواب بگڑ کر کشمیر ہو گیا ہے یا یہ کہنا بھی درست ہے کہ یہ ” کا شیر ہے یعنی سیریا (شام) کی طرح۔“ ی لیکچر بغداد کے مطبعہ الفیض میں طبع ہوا ہے اور اس میں ( فاضل) لیکچرار نے صیہونیت کی پشت پناہی کے باعث امریکہ اور روس دونوں کے خلاف آواز بلند کی ہے۔(الف باء دمشق ) اخبار "صوت الاحرار نے اس انقلاب انگیز مضمون پر حسب ذیل تبصرہ شائع کیا:۔"الكفر ملة واحدة بهذا العنوان ألقى السيد مرزا محمود أحمد إمام الجماعة الأحمدية القاديانية فى لاهور (باكستان) خطبة مطولة حمل فيها بشدة وعنف على الصهيونية الآثمة المحرمة ولم يخف استغرابه العميق من اجتماع المتناقضات واتحاد الأعداء في سبيل إنكار عروبة فلسطين والاعتراف بكيان اليهود الموهوم ويتابع حملته الشديدة ضد السياسة الاستعمارية التي تنشد دوما وأبدا الاستغلال والظلم، ثم يقارن موقف هؤلاء المعتدين من قضية فلسطين بموقفهم من قضية كشمير ويخلص إلى القول أن لا سبيل إلى الاستقلال والخلاص من كل نير أجنبى بغير الاتحاد والتآلف“ ترجمہ: الكفر ملة واحدة مندرجہ بالا عنوان پر السید مرزا محمود احمد امام جماعت احمدیہ نے لاہور (پاکستان) میں